خزانہ کی چابیاں آئی ایم ایف کے حوالے کر دی گئیں ہیں مگر کیوں؟ جانیے

تحریر۔۔۔ احمد کمال نظامی

بات کی ابتدا جس پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کروں ہم اول و آخر پاکستانی ہے اور پاکستان کے خلاف کسی بھی رنگ اور کسی بھی انگ میں کی ہوئی بات قوت برداشت سے باہرہے اور عیاں اور رائیگان الفاظ میں کہتا ہوں کہ محسن داوڑ اور وزیر علی جیسے افراد کی جو لوگ بھی وکالت کر رہے ہیں‘وہ محسن داوڑ وزیر علی ہیں چاہے انہوں نے کوئی بھی روپ دھار رکھا ہو‘ اس وقت وطن عزیز میں ہر طرف مہنگائی کا مشورہ مچا ہوا ہے‘ سرکاری ذرائع ہوں‘یا اپوزیشن سب اپنی اپنی بولی بول رہے ہیں کوئی کہہ رہا ہے آثار قیامت ہیں اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انسان کے مرنے پر بھی ٹیکس لگ سکتا ہے حالانکہ تاریخ اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ پاکستان میں انسان (غریب آدمی) کے مرنے پر کب ٹیکس نہیں تھا‘ حکمران ماعت کے مقتدر افراد کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘ آگے آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا‘پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف نے اپنے پنجے گارڈ دئیے ہیں اور کرنسی کی روز بروز بے توقیری کی جا رہی ہے اور ڈالر آسمان سے باتیں کر رہا ہے‘ ایسا ہونا ہی تھا‘ جب ڈالر کو محبوب کا درجہ دے دیا جائے تو محبو ب کی زلف کا اسیر ہو نا ہی پڑتا ہے کا سہ گدائی توڑنے کی جنہوں نے حماقت کی تھی‘ان حکمت عملی کے نتیجہ میں نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ قرضوں کا طوق بڑھتا ہی جا رہا ہے اور قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لئے جا رہے ہیں یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن جو نئی بات سامنے آ رہی ہے‘ ماضی کی حکومتوں کو چھوڑیں‘ موجودہ عہد میں دانش وری کے کھیت کے کھیت تیار کئے جا رہے ہیں اور دانش ور نامی مخلوق منظر پر چھائی ہوئی ہے اور سچی بات ی ہ ہے کہ مخلوق دانش وروں میں ہمیں تو دور دور تک پاکستانیت دکھائی نہیں دیتی بلکہ پاکستانیت کے نام پر مفاد کی فصل بھی بوٹی جا رہی ہے اور کوڑھ کی کاشت کے کھیت پر کھیت تیار کئے جا رہے ہیں یہ دانش ور فورس کس نمائندگی کر رہی ہے کم از کم مجبور و مشہود عوام جو چکی کے دوپاٹروں میں پس رہے ہیں اور غریب ہی نہیں عام آدمی اور درمیانہ طبقہ اور مستوسط طبقہ کا آدمی نا قابل برداشت مشکلات کا شکار ہو چکا ہے‘ دیکھتے ہی دیکھتے روز مرہ کی اشیاء اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بلند ترین سطح پر پہنچ سکا ہے اور ابھی تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ عوام کو دینا ہے اور وفاقی وزیر خزانہ شیخ حفیظ وزراء کی ایک فوج ظفر موج کے ہمراہ اپنی پریس کانفرنس میں یہ خوش خبری سنا چکے ہیں کہ پاکستان میں ایک خوش حالی کا دور آئندہ سال سے شروع ہونے والا ہے اس خوش فہمی پر کون نہ مر جائے اسے خدا والی کیفیت عوام میں دکھائی دیتی ہے‘ سپاہ دانش کہہ رہی ہے گزذشتہ دس ماہ میں عمران خان حکومت کی کارکردگی تشویشناک حد تک غیر تسلی بخش رہی اور عوام سے جو بلند بانگ دعوے کئے تھے ان دعوؤں کے ”صدقہ“ آج عوام کی اکثریت اگر میرا قیاس درست ہے تو 90فیصد سے زیادہ آبادی دو وقت کی روٹی کی تلاش میں سر گردہان دکھائی دیتی ہے‘پاکستان پر بد قسمتی سے قرضوں کا بوجھ حالیہ کی چوٹی سے بھی اونچا نظر آ تا ہے بلکہ غربت کی لکیر میں بھی اضافہ ہو ا ہے اور عالیہ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچاس فی صد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور بد قسمتی سے ان کی آواز نہ اپوزیشن جماعتوں اور نہ سماجی تنظیموں کی طرف سے سنائی دیتی ہے‘ عمران خان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کا کوئی وژن نہیں اور نہ امور حکومت کا کوئی فہم‘ان کی ٹیم بد ترین نا اہل ثابت جوئی ہے‘جس نے زندگی کے ہر شبہ میں ابتری پیدا کر دی ہے‘ آئی ایم ایف کے لیول پر جو معاہدہ سامنے آیا ہے اس نے اس مجموعی تاثر کو تقویت فراہم کی ہے کہ خزانہ کی چابیاں آئی ایم ایف کے حوالے کر دی گئیں ہیں اور معاہدے کی تفصیلات میں ابہام پایا جا تا ہے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ اس کی نفی کر تے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ابھی آئی ایم ایف سے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا‘ سچ بات یہی ہے کہ ماضی کی حکومتوں کے سر براہوں میں کسی ایک لیڈر کا نام تو بتائیں جس کا کوئی وژن تھا میں فوجی حکومتوں کی بات نہیں کر رہا بلکہ نام نہاد جمہوری حکومتوں کی بات کر رہا ہوں جن کے میثاق جمہوریت کے دعوے بھی میثاق ذات ہو تے تھے اب زمانہ بدل گیا بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے پنڈت نہرو کا خاندان سیاست سے آؤٹ ہو گیا‘ وقت نے یہ ثآبت کر دیا کہ جس طرح پنڈت نہرو کا خاندان تاریخ کے صفحات دفن ہو گیا کوئی تسلیم کرے نہ کریں لیکن وقت اور تاریخ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ ماضی کی حکومتوں میں اقتدار کے پنگور سے اٹھانے والوں کا اب ہندسہ بھی نہیں گنے گا اور وہ تاریخ کے کفن کی نذر ہو چکے ہیں ہم ہی نہیں عوام بھی دیکھ رہی ہے کہ ارباب اقتدار (عمران خان) کو اس حقیقت کا ذرا احساس نہیں کہ اپوزیشن اگر کوئی ہے تو ان کی یہ دماغی اور نالائقی نے ڈرامائی طور پر اکٹھا کر دیا ہے ورنہ ان کے مفادات کا ٹکراؤ سب کے سامنے ہے اور اب بات کرتے ہیں سطور بالا میں کہا کہ محسن داوڑ اوروزیر علی جیسے افراد کی موجود گی میں ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں بد قسمتی سے محسن داوڑ اور وزیر علی کی قیادت میں جس گروہ نے پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا‘ اس کی قیادت کرنے والوں میں قومی اسمبلی کا ایک رکن قومی اسمبلی بھی شامل تھا‘ ہمارے خیال میں تو چیف جسٹس آف پاکستان کو چیک پوسٹ پر حملے کا از خود نوٹس لینے کی ضرورت ہے اور پاکستان الیکسن کمیشن ان رکن کی رکنیت فوری طور پر کالعدم قرار دینے کی ضرورت ہے اور قوم کو ان تمام سیاسی قوتوں کا سخت ترین محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے اجلاسوں میں ان پاکستان دشمنوں کو مدعو ہی نہیں کر تیں بلکہ ان کی ہم نوائی کر تے ہوئے ان کی آواز میں اپنی آواز شامل کر تی ہیں یہ تو ایسا ہی ہے کہ جمہوریت کی بقا کا نعرہ بلند کر تے ہوئے ہم اپنے اجلاسوں میں ”مودی“‘ کو بھی مدعو کریں اور اس سے خطاب بھی کرا دیں‘محسن داوڑ اور وزیر علی کے پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ سے یہ حقیقت کھل منظر عام پر آگئی ہے کہ را کے چیف نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی مرضی کے محاذ کھولیں گے لہذا قوم کو ہی نہیں حکومت کو بھی ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے کہ مودی نے انتخابات میں کامیابی کے دوسرے یوم ہی چیک پوسٹ کر حمہ کروا کر کیا پیغام دیا ہے دانش وروں یہ مقام ماتم ہے اس پر غور کرو کہ دشمن کے مکروہ عزائم کیا ہے اور ایک اہم ہیں کہ ان ”وزیروں اور داوڑوں“ کو اپنی آنکھ کا تارا بنائے ہوئے ہیں محض عمران دشمنی میں نہیں یہ عمران دشمنی نہیں پاکستان دشمنی ہے!آخر میں صرف ایک ذہن نشین کر لیں کہ نئی نسل کی رگوں میں پاکستانیت کا خون گردش کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں