حیات طیبہ ﷺ زندگی کے ہر شعبے میں رہنما ہے‘معروف عالم دین مولانا امیرمحمد اکرم اعوان کی خصوصی تحریر!

تحریر؛مولانا امیرمحمد اکرم اعوان

نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ ہر آدمی کیلئے قابل عمل ہے۔آپ ﷺنے زندگی اس انداز میں گزاری جس کے مطابق غریب،مزدور اور فقیر بھی اپنی زندگی گزار سکتا ہے۔اجرت پر بکریاں بھی چرائیں ایک مصری عالم شیخ محمد رضا نے سیرت کی مشہور کتاب ”محمد رسول ﷺ“میں لکھا ہے کہ ابو طالب کثیر العیال تھے ایک ٹانگ سے معذوع تھے اور کاروباری سفر بہت کم کر سکتے تھے۔مفلوک الحال تھے تو اس وقت حضور اکرم ؐ اجر ت پر بکریاں چرا کر اجرت چچا ابو طالب کو دیتے تھے۔اجرت پر بکریاں چرانے کی مزدوری سے لے کر ریاست اسلامی کے سربراہ تک نقوش کف پا بکھرے ہوئے ہیں۔حضور ؐﷺ نے تجارتی قافلوں کو اپنی ہمراہی سے سرفراز فرمایا۔تجارت کی، ہجرت کی،عبادت کی، تکلیفیں برداشت کیں،ظلم سہے اور حق پر قائم رہے۔ایک بات بڑی قابل روجہ ہے کہ اہل مکہ مذہب کیخلا ف نہیں تھے۔وہ اس بات سے خفا نہیں تھے کہ آپ ﷺ کہتے ہیں اللہ ایک ہے۔وہ اس بات سے خفا تھے کہ ہمارے بتوں کو جھوٹا کیوں کہتے ہو؟اس بات سے خفا نہیں تھے کہ آپ نماز پڑھتے ہیں اور ہم بتوں کی پوجا کر تے ہیں۔مکہ مکرمہ میں کم و بیش دنیا کے ہر مذہب کے ماننے والے تھے کوئی بتوں کو پوجتا تھا،کوئی جنوں کو پوجتا،کوئی آگ کو پاجتا،کوئی عیسائی تھا اور کوئی یہودی اور کوئی کسی کو بھی نہیں مانتا تھا۔یہ نظریات مکہ مکرمہ میں اس لئے موجود تھے کہ ان لوگوں کی معیشت ہی سفروں پر منحصر تھی۔تجارتی سفر کرتے،دنیا کے گوشے گوشے میں جاتے تھے۔کجہاں سے کسی نے کوئی مذہب اختیار کیا وہ مکہ میں لے آیا۔اس طرح بے شمار مذاہب تھے لیکن معاشرت اور رہن سہن کیلئے انہوں نے اپنے سردار بنا رکھے تھے اور سارا معاشرتی ڈھانچہ ان کے تابع تھا۔ہر مذہب کا ماننے والا اس معاشرتی ڈھانچے کا حصہ تھا۔وہ سود کھاتے،پیشہ ور عورتیں رکھی ہوئی تھیں لوگوں کو پکڑ کر غلام بنا کر بیچتے یا جو بھی قباحتیں تھیں انہیں روکتا کوئی نہیں تھا اپنے اپنے مذہب پہ تھے لیکن جو معاشرہ تھا اس میں سارے مل جل کر رہتے تھے۔ان کا نبی کریم ﷺ سے مطالبہ یہ تھا کہ آپ اپنا مذہب رکھیں لیکن سارے مذاہب کو غلط نہ کہیں اور معاشرے میں تفریق نہ کریں۔جس طرح ہم جوا کھیلتے ہیں،شراب پیتے ہیں،مسلمان بھی جوا کھیلیں،شراب پیئیں،جس طرح ہم پیشہ ور عورتوں کے پاس جاتے ہیں مسلمان بھی جائیں۔آج کے مسلمان معاشرے کی طرح اس وقت بھی سوال یہ تھا کہ روشن خیال رہو،کلمہ پڑھتے رہو،لیکن معاشرتی برائیوں میں بھی سب کے ساتھ شامل رہو۔اللہ کریم نے اپنے حبیب ﷺ کو حکم دیا کہ میرے حبیب اعلان فرما دو تمہارے اندر اگر اللہ کے احسانا ت کا احساس زندہ ہو گیا ہے میرے نقوش کف پایہ چلو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔یہ بہت مشکل مسئلہ ہے کہ ہم وار دنیا میں ہیں۔اللہ کو مانیں تو ایمان بالغیب ہے۔اللہ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے چونکہ یہ نگاہ مادی ہے،مخلوق ہے اور اس میں اللہ نے اتنی وسعت دی ہی نہیں۔وہ چاہے تو اسے وسعت دے دے اور قیامت کو دے دے گا۔مومنین اللہ کے جمال کا نظارہ کریں گے لیکن وہ عالم دوسرا ہوگا۔فرمایا آج تمہاری نگاہ کو فولادی قوت دے دی ہے لیکن وہ عالم ہی دوسرا ہوگا۔یہاں فرشتے نظر نہیں آتے،آخرت نظر نہیں آتی،جنت و دوزخ سامنے نہیں ہے اگر یہ سب چیزیں سامنے ہوتیں تو پھر کس کی جرات تھی کہ جنت کو چھوڑ کر دوزخ کی طرف سفر کرتا۔یہی امتحان ہے کہ ان سب چیزوں کو حقیقت سے اللہ کے حبیب ﷺ نے مطلع فرما دیا۔اب بات اعتبار کی ہے جسے ہم ایمان کہتے ہیں۔یہ اعتبا ر محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات پر ہے۔جسے حضور ﷺ پر اعتبار آگیا اور اس کے دل میں یہ تمنا جاگ اٹھی کہ میرا زندگی کا سفر اللہ کی رضا،اللہ کی خوشنودی اور جنت کی جانب ہو۔اللہ کی ناراضگی سے بچوں،آخرت کی تباہی سے بچوں تو وہ کیا کرے؟یہاں تو قدم قدم پر کہیں لین دین ہے،کہیں معاملات ہیں،کہیں رشتہ داری ہے کہیں خریدوفروخت ہے،کہیں لڑائی بھڑائی ہے،کہیں زراعت کھیتی باری ہے کہیں مزدوری اور ملازمت ہے زندگی کے اتنے جھمیلے ہیں کہ ہر لمحہ بند ہ کچھ نہ کچھ کر رہا ہوتا ہے۔حتیٰ کہ ہم سو جاتے ہیں۔سونے تک ہمارا دماغ کہیں نہ کہیں الجھا ہوا ہوتا ہے۔دماغ ہمیں وہی خوابیں دکھا رہا ہوتا ہے جو ہماری دن بھر کی خواہشات ہیں۔ہم اس میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ ہمارا ایک ایک لمحہ کسی نہ کسی کام کی نذر ہو رہا ہے۔اس سارے جھمیلے میں یا رسول اللہ ﷺ ہم کس طرح فیصلہ کریں کہ ہمیں کیا کرنا ہے کیا نہیں کر نا۔فرمایایہ بہت آسان ہے اس میں کوئی مشکل نہیں اگر تمہیں عظمت الہی کا احساس و ادراک نصیب ہوا ہے تو میر ا اتباع کرلو میں نے بھی زندگی گزاری ہے۔وہ ہستی جو باعث تخلیق کائنات ہے وہ ہستی جو انبیاء درسل کی امام ہے وہ ہستی جس کے در کے درہان فرشتے ہیں وہ ہستی جس کی خاک پا بھی حیات آفریں ہے وہ ہستی جو اللہ کے بعد کائنا ت کی ساری ہستیوں سے بزرگ و برتر ہے وہ ہستی فرما رہی ہے اور اس عظمت کے ساتھ اپنی اس بلدنی مقام کے ساتھ کہ میں نے بھی زندگی گزاری ہے،میں نے مزدوری کی،اجرت پر بکریاں چرائیں،تجارتی سفر کئے،مصایب جھیلے،دنیاکے دکھوں کا کوئی سا پہاڑ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نہیں ٹوٹا میر ی زندگی دنیا کے ہر شخص کیلئے وہ جو بھی ہتے جہاں بھی ہے جس زمانے میں بھی ہے اتبا ع کیلئے تابندہ مثال ہے اور کامیابی کی ضمانت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں