حکومت مخالف تحریک‘اپوزیشن اور حکمرانوں میں محاذ آرائی

تحریر۔۔۔ احمد کمال نظامی

اس وقت پاکستان کے عوام کی تمام تر توجہ ورلڈ کرکٹ کپ اور اس کے مقابلہ میں پاکستان کے سیاست دانوں کے درمیان ہونے والے پاکستان کرپشن کلب کی طرف لگی ہوئی ہیں‘کرکٹ کی دنیا میں ہیٹ ٹرک کی بڑی اہمیت افادیت ہو تی ہے اور جب کسی میچ میں ہیٹ ٹر ک ہو جائے تو کھیل کا رخ میں تبدیل ہو تا ہے گو ورلڈ کپ کرکٹ میں ابھی ہونے والے میچوں میں کوئی بالر ہیٹ ٹرک کرنے میں کامیاب نہیں ہوا لیکن سیاستدانوں کے مابین جو پاکستان کرپشن کپ کے مقابلے ہو رہے ہیں‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے بھاری کھلاڑی آصف علی زرداری سابق صدر مملکت کی گرفتار ان کی ہیٹ ٹرک ہے وہ پہلی بار بھی کرپشن کے الزام میں اور دوسری بار بھی کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوئے لیکن سابق گرفتاریوں اور حالیہ گرفتاری میں ایک بنیادی فرق ہے‘وہ گرفتار ی میری باری تیری باری زمانہ سیاست میں ہو تی رہی‘ اب تبدیلی نظر آ تی ہے کیونکہ باری والی دونوں پارٹیوں کے کھلاڑی قانون کے شکنجے میں آ رہے ہیں اور دونوں پارٹیوں کی صورت حال عندلیپ مل کر کریں آہ و زاریاں والی نظر آ تی ہے اصل تبدیلی یہ ہے جیسے باری والوں نے مہنگائی کے رنگ میں رنگنے کی جدوجہد شروع کر دی ہے حالانکہ کوئی ایسا زمانہ تو بتائیں جب مہنگائی کے آسیب سے اس قوم کو نجات ملی ہو‘ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے‘ جب بھی سالانہ میزانیہ پیش ہو تا ہے اس کے نتیجہ میں افراط زر اور عام استعمال کی چیزوں کی قیمت میں اضافہ ہو تا ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی جا تی ہے اور سرمایہ داروں کی تجوریوں کے منہ بھر جاتے ہیں‘ سابق حکمرانوں اور نئے حکمرانوں کے مابین سیاسی محاذ آرائی میں چند گرفتاریوں کے بعد افسانہ ضرور نظرآ رہا ہے‘جبکہ معاشی بدحالی بے روز گاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی کمر توڑ مہنگائی عوام کو بے بسی بے کسی کے ماحول میں گرفتار کر رکھا ہے اور یوں محسوس ہو تا ہے کہ آئی ایم ایف کے جانے کی بجائے خود کشی کرنے کا دعوی کرنے والے عمران خان اسی عطاء کے لونڈے سے دوا لینے پر مجبور ہو گئے ہیں اور معاشی خود مختاری کو آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے سرنگوں کر دیا ہے‘ عام پاکستانی یہ سوال کر رہا ہے کہ امور مملکت کو کن قوتوں کے اشارہ پر چلایا جا رہا ہے اور نئے پاکستان میں تبدیلی کا دعوی کرنے والے عمران کان بے حسی اور لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور نو اور حالیہ بجٹ میں گیس‘بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ چینی‘ چاول‘دالوں کی قیمتوں میں اضافہ کے گوشت اور دودھ پر ٹیکس نافذ کرتے ہوئے ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے‘ ویسے تو پاکستانی عوما کے مقدر میں پتھر پر لکیر کی طرح یہ تحریر نظر آ تی ہے کہ ان پر مختلف مافیاز کی حکمرانی مسلط رہے گی ان مافیاز میں ایک شوگر مافیا بھی ہے اور حکومت نے شوگر مافیا کو من مانی کیلئے کھلا چھوڑ دیا ہے چینی کی غیر معمولی پیدا وار اور سٹاک کے باوجود قیمت میں اضافہ سمجھ سے بالا تر ہے‘ اس شدید ترین گرم موسم میں جب سورج سوا نیزے پر نظر آ تا ہے اپوزیشن کی جماعتیں حکومت مخالف تحریک چلانے کی دعوی دار ہیں جبکہ ہمارے نزدیک جو سیاسی محاذ آرائی اور مہنگائی خیز نظر آ تی ہے وہ اپوزیشن جماعتوں اور حکمران جماعت یا اتحاد سے زیادہ سابق حکمرانوں اور نئے حکمرانو کے درمیان معرکہ کی تیار نظر آ تی ہے‘ ایک بات جو پورے یقین اور اعتماد سے کہی جا سکتی ہے‘پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کی سیاست کا توتی بولتانظر آ تا ہے‘ سندھ میں پیپلز پارٹی کو نظر انداز کرنا دیوانے کے خواب سے کم نہیں‘ویسے بھی آصف علی زرداری جس طرح مصالحتی سیاست اور سند ھ کارڈ کا استعمال کر تے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام تر الزامات کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ میں ابھی تک بر سر اقتدار ہے اور اسے سندھ میں گرانے کیلئے عمرا ن خان نے جو جدوجہد کی تھی وہ حالیہ الیکشن کے دوران اندرونی سندھ ناکام رہی‘کراچی کی حد تک انہیں ضرورکچھ کامیابیاں حاصل ہوئیں‘مگر ایم کیو ایم کے آپس میں ایک دوسرے کے دست گریباں ہونے اور گروپ بندیوں کی وجہ سے تحریک انصاف کا اتحاد بننے کے بعد خود ایم کیو ایم تمام دھڑے کراچی میں ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہیں اور رہی سہی کسر الطاف حسین کی گرفتاری میں نکال دی ہے‘کرپشن‘منی لانڈرنگ اور سندھ حکومت کی ناکامیوں کے الزامات کے باوجود پیپلز پارٹی ابھی تک سندھ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے اور اگر بلاول بھٹو زرداری کسی طرح سیاسی جلسے جلسوس اور جارحانہ سیاسی پالیسی بیان جاری رکھیں گے تو پھر پیپلز پارٹی کو لگتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں بھی سندھ میں ہرانا آسان کام نہیں ہے‘ بلاول بھٹو یقینا جئے بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نام پر اپنے سیاسی داؤ پیچ کھیل کر سندھ میں پیپلز پارٹی کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہیں گے‘ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ترقیاتی منصوبوں اور نواز شریف‘میاں شہباز شریف کی سیاسی گرفت ہو‘کمزور کرنے میں موجودہ پنجاب حکومت اور خود تحریک انصاف اور اس کے اتحادی بری طرح ناکام رہے ہیں‘ پنجاب حکومت اور تحریک انصاف کے اتحادی چوہدری پرویز الہی بھی اس طرح سرگرم نظر نہیں آ تے جس طرح پہلے تھے‘ پورے پنجاب میں آٹھ ماہ سے تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام رکا ہوا ہے‘چوری‘ڈکیتی‘راہزنی‘لاقانونی حد سے بڑھ چکی ہے‘افسر شاہی عوام سے تعاون نہیں کر رہی‘تھانہ کچہریوں میں مسائل بڑھ چکے ہیں‘عوام کا کوئی پرسان حال نہیں‘مہنگائی‘ملاوٹ‘ذخیرہ اندوزی حد سے بڑھ چکی ہے اور تو اور سرکاری محکموں کے علاوہ تعلیمی اداروں سمیت ہر محکمے میں کرپشن حد سے بڑھ چکی ہے اور وہ حکومت جو کرپشن کے خاتمے راگ الاپ رہی ہے خود کرپشن ختم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے‘اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں صوبائی وزیروں کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے‘ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنے حلقوں سے غائب نظر آ تے ہیں اور ان کے تین چار ماہ سے اپنے اپنے حلقوں میں عوام سے رابطے منقطع ہو چکے ہیں‘اس صورت حال میں مسلم لیگ (ن) جسے حالیہ الیکشن میں پنجاب میں شدید دھچکا لگا تھا ایک مرتبہ پھر دوبارہ تحریک انصاف کی اپنے ہی رویے کی وجہ سے عوام میں سر اٹھا رہی ہے‘اور یہی صورت حال رہی تو اس سے دوبارہ مسلم لیگ (ن)نواز شریف اور شہباز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا‘اس پر تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو سوچنا ہو گا‘ وزیراعظم عمران خان نے جب سے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا ہے تواتر سے ایک ہی قوالی کے راگ الاپ رہے ہیں کہ کوئی بچ کے نہیں جائے گا کسی قومی خزانہ کو لوٹنے والے کو نہیں چھوڑوں گا‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آصف علی زرداری‘حمزہ شہباز اور الطاف حسین کی گرفتاری پر تبصرہ کر تے ہوئے کہا کہ معلوم ہو تا ہے خد ا کو پاکستان پررحم آ گیا ہے‘ جو لو گ پکڑے جا رہے ہیں ان سے ہمیں فائدہ ہو گا اور پھر رات کی تاریکی میں قوم سے خطاب کر تے ہوئے قومی دولت لوٹنے والوں سے حساب کتاب بیباک کرنے کی غڑض سے ایک اعلیٰ اختیار راتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا جو کہ آئی بی‘آئی ایس آء یایف آئی اے‘ایس ای سی پی کے نمائندوں پر مشتمل ہو گا اور وزیراعظم عمران خان خود اس کمیشن کی نگرانی کریں گے اور وزیراعظم عمران کان نے قوم کو یقین دلایا کہ گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کو کیسے لوٹا گیا یہ کمیشن ان لوگوں کی نشان دہی کرے گا‘ پاکستان میں اب تک بڑی پختہ روایت رہی ہے کہ سابق حکمرانوں نے بھی ایسے کمیشن قائم کئے اور بڑے بڑے دعوے کئے لیکن کسی ایک کرپٹ کو بھی سزا ملی اور اس نے قومی خزانہ پر جو ڈاکہ مارا اس سے مال برآمد ہوا‘ الٹا انکوائری کے نام پر کروڑوں روپے قومی خزانہ سے خرچ کر دئیے گئے‘ ہم خدا معلوم کس دنیا کے باسی ہیں کہ اصغر خان کیس کے فیصلہ پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کرا سکے‘جبکہ اصغر خان کیس میں وہ کون پہلو تھا جو بے نقاب نہیں ہوا اور تمام چہرے بھی عوام کے سامنے آ گئے‘ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا اس کے ساتھ ہی سرے محل کیس پر اس قدر شور شرابہ ہوا نتیجہ کیا برامد ہوا کہ کروڑوں اربوں روپیہ اس کیس پر قومی خزانہ سے خرچ ہوا اور پھر حکومت نے اس کیس کو واپس لے لیا اور آصف علی زرداری نے نہ صرف سرے محل فروخت کر دیا بلکہ اس سرمایہ سے بیرون ملک اور اثاثے بھی بنا لئے‘ بات کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ماضی میں ہمارے سامنے کوئی مثال ایسی نہیں کہ لیڈروں کو ان کے کئے کی سزا ملی ہو‘ لہذا وزیراعظم عمران خان جو دعوی کر تے ہیں کہ میں معیشت کی تباہی پر سابق حکمرانوں سے جواب لوں گا اور کرپٹ عناصر کی نشان دہی پر انہیں قرار واقعی سزا دوں گا خدا کرے کہ عمران خان اپنے قول کے چکے ثابت ہو ں اور قومی ملزموں کو ان کے جرم کی سزا ملے‘ معاشی بحران کی تحقیقات کسی کو انکار نہیں‘ لہذا بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا‘ بھاڑ میں جائیں سابق حکمران لیکن عمران خان جن لوگوں کو برسوں سے چور اور لیٹرے کہہ رہے تھے ان میں چوہدری برادران بھی سرفہرست ہیں اور جن لوگوں کے ذریعے عمران خان امور مملکت چلا رہے ہیں‘یہ وہی پرویز الہی ہیں جنہیں عمران خان اپنے جلسوں میں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے‘حفیظ شیخ‘شبر زیدی اور باقر جیسے وہ لوگ ہیں جو پرویز مشڑف کے عہد حکومت اور سابق حکمرانوں کے ادوار میں ناک کا بال تھے‘مشیر خزانہ حفیظ شیخ‘جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے دور اقتدار میں بھی قومی بجٹ بناتے اور پیش کر تے تھے اب وہ عمران خان کی حکومت کا پہلا بجٹ بنا چکے جو کہ پیش ہو گیا اور اس بجٹ میں آئی ایم ایف کا بجٹ کہا جا رہا ہے اور اس وقت اب عمران خان کے دست راست ہیں اسی طرح بہت سے مشیر عمران خان کی چھتری کے نیچے جمع ہو چکے ہیں جو کہ پیپلز پارٹی‘(ق) لیگ اور مسلم لیگ (ن) کا حصہ رہے ہیں‘یعنی یہ تو بات ہوئی نہ کہ جب ان جماعتوں میں تو چور اور جب تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں تو پھر با وضو ہو کر پاک صاف ہو گئے‘ یہ وہ سوال ہے جو کہ ہر پاکستانی کی زبان پر ہے‘ عمران خان ماضی کے ان مزاروں کو مسمار کرنے کی طر بھی پیش قدمی کرتے‘عمران خان جن لوگوں کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں ان ذکر برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں‘ ان میں سے بعض اس وقت احتساب کی زد میں ہیں اور وہ اسے انتقام قرار دے رہے ہیں‘ عمران خان جو نقشہ پیش کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ہم اس سے بھی بد تر ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں‘احتساب بھی سب کا ہونا چاہیے‘تحریک انصاف میں پناہ لینے والے اور عمران خان کے ارد گرد جو نیب زدہ جمع ہیں ان کا بھی احتساب وقت کی ضرورت ہے‘لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اب قوالی کرنے کا وقت گزر گیا بلکہ تیز تر اور تیز رفتار عمل کی ضرورت ہے ورنہ قوم تو اسے عمران خان کا ٹوپی ڈرامہ ہی قرار دیتی اب ڈراموں سے بات نہیں بنے گی اور عوام کو اس وقت یقین آئے گا جب لوٹی دولت قومی خزانہ میں جمع ہو گی اور عوام کا یہی مطالبہ نہیں بلکہ وہ اس وقت کے منتظر ہیں جب لوٹی دولت برآمد ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں