جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس سازش یا حقیقت۔۔۔!!

تحریر۔۔۔ احمد کمال نظامی

بعض اوقات شعراء کرام خدا معلوم کس کیفیت میں ہو تے ہیں کہ ایسے الہانی شعر رقم کر دیتے ہیں کہ ان اشعار کا جادو وقت بہ وقت سر چڑھ کر بولتا نظر آ تا ہے‘ آجکل پاکستان کے سیاسی موسم میں ریفرنس موسم پورے جوبن میں نظر آ تا ہے‘ علامہ اقبال نے کیا الہامی شعر کہا تھا کہ یوم حشر تک اس صداقت سے کوئی انکار کی جسارت کرنے کی جرات نہیں کر سکے گا‘ علامہ اقبال اپنے خالق سے مخاطب ہو تے ہوئے کہتے ہیں‘
خدا وند یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ بڑے بڑے نامور اور ممتاز علماء اپنی تقاریر اور خطبات میں جن خیالات اور ہدایات کی عوام کو ہدایت کرتے ہیں اور ترغیب دیتے ہیں اس پر خود بھی پورا اترتے ہیں‘ گویا ہم جو کہتے ہیں اس پر عمل کرو ہم جو کرتے ہیں اس پر نظر مت ڈالو‘عمل اور فول کا یہ نفاذ ہمیں تباہی کی دلدل کی طرف لے جا رہا اور ہم ہیں کہ دلدل میں پھنستے ہی جا رہے ہیں ایسے ہی کسی شاعر نے کہا
میں جس سے پیار کر تا ہوں
اسی کو مار دیتا ہوں

اخبارات میں یومیہ ریفرنس کے حوالہ سے جو خبریں سامنے آ رہی ہیں ہم پاکستانی بعض ریفرنسز کے حوالہ ایسی صورت حال سے دوچار ہیں جب سے بادشاہی دور کا خاتمہ ہو ا ہے اور جمہوری عہد شروع ہو گا ہے تاریخ اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ قومیں ورثہ میں ملے ہوئے حالات میں چاہے وہ حالات کتنے ہی بگڑے ہوئے کیوں نہ ہوں اپنے لئے بہتر راستے اور راہ نکالنے کی جستجو اور جدوجہد کر تی ہیں لیکن ایک اہم ہیں اور گزشتہ پون صدی سے خود کو ایک قوم کے طور پر متعارف کرانے میں ناکام ہیں اس بہت سی وجوہات میں اور سب سے اہم لیڈر شب کا فقدان ہے یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی جا سکتی ہے کہ ہمیں سیاست دان تو ملے لیڈر کوئی نہیں ملا ہاں ایک لیڈر ملا جس نے وطن تو دے دیا لیکن اس کی زندگی نے وفا نہیں کی لہذا وہ قوم کی تربیت نہ کر سکا اور قوم ایک ہجوم کی شکل اختیار کر گئی‘ یوں تو احتساب کی بات سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے ہیں لیکن جیسے حقیق معنوں میں احتساب کہتے ہیں اس سے ہمارا واسطہ نہیں پڑا‘ کاش احتساب ہو جانا چاہیے یہ سیاسی حکومت یا فوجی حکومت کے عہد میں ہو تا تو ہم ہجوم سے قوم بن چکے ہو تے‘بد قسمتی سے احتساب کا پورے زور و شور سے نعرہ بلند کرنے اور نعرہ لگانے کے باوجود سیاسی اور جمہوری عمل ارتقا پذیر ہونے کی انحطاط کا شکار ہے جبکہ جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت اس کا حسن احتساب ہو تا ہے اور جمہوری دور میں اگر احتساب ارتقائی منازل تیزی سے طے کر تا نظر آ تا ہے اور جمہوری دور میں اگر احتساب ارتقائی منازل تیزی سے طے کر تا دکھائی ہ دے تو وہ جمہوری دور نہیں بلکہ مفادی دور ہے اور احتساب کی ایک اہم ترین شکل یہ ہے کہ وہ سب کیلئے یکساں طور پر لاگو ہو ئے کہ بدلتے موسموں کے ساتھ احتساب کے کردار بھی تبدیل ہو تے رہیں‘ اس غیر یقینی صورت حال سے عوام کا اعتبار احتساب سے اٹھ جا تا ہے اور عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ حکومت وقت اپنے مخالفین سے انتقام لینے کیلئے احتساب کا ڈرامہ رچا رہی ہے اسے حقیقی احتساب سے کوئی سروکار نہیں کیوکہ حقیقی احتساب ہو نے سے خود بھی اس کی بھینٹ چڑھ سکتی ہے‘ عدالت عظمیٰ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جن کا تعلق بلوچستان سے ہے اور عوام ان سے پیار بھی کر تے ہیں ان کے فیصلوں کی وجہ سے جسٹس قاضی عیسیٰ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی آمدن سے زائد اثاثے بنائے ہیں لہذا صدر مملکت عارف علوی نے قاضی عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے اور قاضی عیسیٰ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ وہ مستقبل میں بطور چیف جسٹس خدمات سر انجام دینگے‘ریفرنس کا نتیجہ کیا برآمد ہو تا ہے اس پر کسی بھی نوعیت کا تبصرہ کرنا ہمارا حق نہیں‘لیکن دلچسپ اور بڑی ہی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر قانون اور وزارت قانون نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وزارت نے صدر مملکت کی ہدایت پر ریفرنس دائر کیا ہے اور جس تحریری ہدایت پر صدر مملکت کی طرف ریفرنس وصول ہوا کوئی تبدیلی کئے بغیر سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کر دیا اور جج کے خلاف شکایت حکومت کے اثاثہ ریکوری یونٹ (اے آر یو) سے وصول ہونی تھی اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ اے آر یو کا اس معاملہ میں کوئی عمل وفل نہیں اور وفاقی وزارت قانون کا یہ کہنا ہے کہ اس کے پاس ججوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے اور وزارت قانون کا کام اثاثہ ریکوری یونٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے ملنے والی شکایات کو ملک کے وسیع تر مفاد میں پراسیس کرنا ہے‘سوال پیدا ہو تا ہے کہ جب کوئی میکنزم موجود نہیں تو وزارت قانون نے یہ رنفرنس صدر مملکت کو اپنے نوٹس کے ہمراہ واپس کیوں نہیں‘بظاہرایسے دکھائی دیتا ہے کہ یہ ریفرنس کم اور مختلف لابیوں کے درمیان جو مفادات اور اقتدار کی جنگ جاری ہے اس سازش کی ایک کڑی ہے اور ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ریفرنس کی تیار میں ایک سابق جج کی خدمات بھی حاصل کی گئیں اور وزیر قانون نسیم فرح کا ہاتھ بھی اور یہ تمام تر کھیل قاضی عیسیٰ کی ساکھ کو مجروح کرنے کیلئے تانا بانا تیار کیا گیا ہے‘ لہذا سپریم جوڈیشل کونسل نے ہی فیصلہ کر نا ہے ہم ایک بات کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کو رد کر تے ہوئے قاضی عیسیٰ کو سرخرو کر دیتی ہے تو اس کے ساتھ ہی ریفرنس کی سازش تیار کرنے والوں کے خلاف وہی سلوک ہونا چاہیے جو جھوٹی گواہی دینے والوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہا ہے جہاں تک وکلاء برادری کا اظہار یکجہتی کیلئے تحریک چلانے کا اعلان ہے وہ اپنی جگہ بار اور بیچ کے تقدس کا مسئلہ ہے اور پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ حکومت جمہوریت پسند ججوں کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہی ہے گویا باقی جج آمریت پسند ہیں اور میاں نواز شریف کا عدلیہ بچاؤ تحریک چلانے کا اعلان اس پر میاں نواز شریف کے ججوں کے بارے میں ریمارکس اور سپریم کورٹ پر حملہ بھی عدلیہ بچاؤ کارنامہ تھا‘ لہذا صبر کرے اور فیصلہ کا انتظار کریں جبکہ پاکستان کی تمام بار کونسلوں نے اعلیٰ عدلیہ کے خلاف یعنی ججز کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کے خلاف چودہ جون سے ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی ہے یہ ہڑتال بارش کا پہلا قطرہ ہے‘ یہ خوش کن امر واقعہ یہ ہے کہ بار کونسل آف پاکستان کے اعلان کے مطابق ہماری یہ ہڑتال احتساب کے خلاف نہیں بلکہ ہمارا احتجاج ججز کیلئے نہیں بلکہ ریاستی اور حکومتی اداروں کی مضبوطی کیلئے ہے اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کا یہ کہنا کہ آئین کے سیکشن 176کے تحت پہلے نوٹس جاری کیا جاتا ہے لیکن ججز صاحبان کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا‘ میرٹ اور اصول کے ساتھ آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں اور دائردائرریفرنس ہر پہلو سے اس قدر کمزور ہے اور بد نیتی پر مبنی ہے‘ جبکہ قاضی عیسیٰ فائز نے حکومت کی طرف سے قاضی عیسیٰ اور دیگر ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد ریفرنس کے حوالہ سے دوبار خط لکھا اور اپنے ان مضبوط میں اٹھائے ہوئے سوالات کا تفصیلی ذکر کر تے ہوئے تمام الزامات تردید کر دیتے ہوئے ریفرنس واپس لینے کی استدعا کی کیونکہ ریفرنس صدر مملکت کے حکم پر ہی دائر ہوا ہے‘لیکن صدر مملکت عارف علوی نے کوئی جواب نہیں دیا جس سے یہ تاثر پیدا ہو ا کہ صدر مملکت بھی دباؤ میں ہیں اور بعض عناصر اپنے ایجنڈا کے مطابق ملک میں انتشار و خلفشار پھیلانا چاہتے ہیں‘لہذا سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بر طرفی پر جو عوامی تحریک وکلاء اور عوام نے چلائی تھی اس میں اور حالیہ تحریک میں بہت فرق ہے جبکہ قاضی عیسیٰ فائز کوئی پہلی بار مشکل میں نہیں پھنسے بلکہ جب بھی سازشیوں نے ان کیخلاف کوئی سازشی جال بچھایا وہ تار تار ہو گیا اور اب بھی ایسا ہی نظر آ تا ہے‘ وزارت قانون عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر کو اپنی ایڈوائس جاری کریں کہ وہ ریفرنس واپس لے لیں اسی میں حکومت کا بھلا ہے ورنہ وکلاء کی تحریک سے اپوزیشن کی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی غرض سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کریں گے‘اس کا عمران خان کو اندازہ ہو نا چاہیے اور نہ ہی ایسے ریفرنس دائر کر کے عدلیہ کو اپنے دباؤ میں لینے کی کوئی کوشش کامیاب ہو سکی عدلیہ ماضی والی عدلیہ نہیں ہے وہ زمانہ بیت گیا جب مقدمہ زیر سماعت ہی ہو تا تھا اور اس کے فیصلہ کی صدا نے باز گشت ہر کسی کو سنائی دیتی تھی‘اس کا تازہ ترین ثبوت اور قاضی عیسیٰ فائز کے مسئلہ پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کیمرج یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کر تے ہوئے ایک سوال کے جواب میں دو ٹوک الفاظ میں آئین پاکستان کی روشنی میں کہہ دیا کہ قاضی عیسیٰ فائز کو حکومت نہیں نکال سکتی یہ سپریم جوڈیشل کونسل کا معاملہ ہے اور انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ ہو گا اور چیف جسٹس آصف سعید کا یہ کہنا کہ انصاف کی فراہمی کیلئے مارشل لا ء اور جمہوریت اور دیگر نظام آنے کے باوجود قانون کی حکمرانی اور بالا دستی کی جدوجہد کر تے رہے ہیں‘گویا چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس غبارہ سے ہوا نکال دی جو صدر مملکت کی طرف سے قاضی عیسیٰ فائز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد بحث جاری ہے جبکہ جنرل پرویز مشرف کے عہد میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف انتقامی کارروائی کا جو منفی رد عمل سامنے آیا سب کچھ لٹا کر جنرل پرویز مشرف نے اعتراف کیا کہ ان کے اس اقدام نے شکست ان کا مقدر قرار پا چکی تھی اور ان سیاسی عناصر کے کہنے پر جنرل پرویز مشرف نے یہ غیر آئینی اقدام اٹھایا تھا بد قسمتی سے وہی عناصر آج عمران خان کے آس پاس نظر آ تے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان دیانتدار اور اپنی بات کے پکے ہونے کے باوجود کانوں کے کچے ہیں اور کانوں کے کچے ہونے کی بنا پر ایسے اقدامات بھی اٹھ رہے ہیں‘ جو ایک لیڈر کی شان نہیں ہو تی اور نہ وہ اسٹیٹ مین ہو تا ہے سپریم جوڈیشل کونسل جو عام عدالت نہیں ہے اس میں چاروں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز شامل ہو تے ہیں اور کسی جج کے خلاف شکایات کے مقدمات کی سماعت کر تی‘چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے الفاظ بڑی حد تک زیر سماعت ریفرنس کے خدو خال کو واضح کر دیا جبکہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جمہوریت پسند ججوں کے خلاف حکومت کی انتقامی کارروائی کا تعلق اور اس ضمن میں 14جون کو ملک بھر کی عدالتوں ہڑتال کا اعلان کیا جبکہ دوسری طرف پنجاب بار لاہور وکلاء کی ایکشن کمیٹی نے چودہ جون کی ہڑتال کی کال کو مسترد کر تے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ کو ہی حتمی فیصلہ قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں