جب تک جنتا تنگ رہے گی اپنی جنگ رہے گی

بھٹہ کے محنت کش ایکی ایسا مظلوم طبقہ ہے جو اس جدید ترین اور ترقی یافتہ عہد میں بھی دور غلامان جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے کہ مختلف شعبہ جات میں کام کرنے والے محنت کشوں کو حکومت محنت کش تسلیم کر تی ہے اور ان کے حقوق کی جنگ لڑنے والی ٹریڈ یونین کو قانون کا تحفظ حاصل ہے لیکن بھٹہ مزدور اس حق سے اس وقت تک محروم رہے جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس مجبور و مقصود طبقہ کو اپنے ایک حکم نامہ کے ذریعے محنت کش قرار نہیں اور انہیں وہی حقوق دئیے جو دیگر صنعتی محنت کشوں کو حصال ہیں جبکہ بھٹہ کا محنت کش اکیلا محنت کش نہیں ہو تا بلکہ اس نظام استحصال میں اس کا پورا خاندان حتی کہ معصوم اور نا بالغ بچے بھی بھٹہ مالکان کے غلام ہو تے ہیں اور بچوں سے جبری مشقت کرائی جا تی ہے‘ محکمہ لیبر اینڈ ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی فریضہ ہی محنت کشوں کے حقوق کی نگہداشت کرنا اور جہاں کہیں بھی حکومت کے نافذ کر دہ قوانین کی خلاف ورزی پائی جائے قانون کو حرکت میں لانا ہے‘ اس سے کوئی غرض نہیں کہ محکمہ لیبر کے کون کون سے اہلکار اور افسران مختلف صنعتی اداروں کے مالکان ”منتھلی“ لیتے ہیں اور ایک لیبر انسپکٹر اپنے من پسند زون میں اپنی تعیناتی کرانے کیلئے نیلام گھروں میں کہاں تک بولی لگاتا ہے اور مشرق واسطہ کے شہزادوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں‘ کرپشن‘بد عنوانی‘ دھاندلی اور قانون کو موم کی ناک قرار دینا تو ہمارے سرکاری اور نیم سرکاری محکموں مونو گرام ہے‘ ایک کہاوت پاکستانی سرکاری اداروں کے حوالہ سے ضر ب المثل کا درجہ رکھتی ہے ادارہ وفاقی ہو صوبائی سرکاری ہو یا نیم سرکاری ہو اس کی کوئی قید نہیں‘ کہاوت ہے کہ لوٹ پڑی سو لوٹو لوٹ جو نہ لوٹے اوت کا پوت‘تو جناب بھٹہ محنت کشوں کے احوال منظر عام پر آئے ہیں وہ اسی کہاوت کی چلتی فلم نظر آتے ہیں‘ گذشتہ یعنی محنت کشوں کے عالمی یوم کے ایک عشرہ بعد لیبر قومی موومنٹ بھٹہ مزدور تحریک نے فیصل آباد میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اس احتجاجی مظاہرہ میں ننگ بدن ننگ پاؤں بھٹہ مزدوروں کے بچوں کی کثیر تعداد نے اپنی ماؤں اور اپنے والد کے ہمراہ شرکت کی‘ یہ احتجاجی مظاہرہ فیصل آباد میں ہونے والے صنعتی اداروں اور پاور لومز فیکٹریوں‘ نرسوں اور کلرکوں سے یوں انفرادیت رکھتا تھا اور یکستا تھا کہ مظاہرین انتظامیہ حکومتی مشینری اور غریب کے حق میں مر جانے والے سیاست دانوں کو ان کے اعمال کا آئینہ دکھا رہے تھے اور جن معصوم بچوں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب ہونا چاہیے وہ ننگے بدن اور ننگے پاؤں آگ برساتے ہوئے سورج میں اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھائے ہوئے تھے وہ احتجاجی بینرز نہیں ہمارے نظام حکومت کا مرتیہ تھے‘ ماتم تھا‘اس استحصال کی نشان دہی کر رہے تھے جو صدیوں قبل پاتال میں دفن ہو چکا ہے‘ دو سال قبل سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت پنجاب نے ایک نوٹیفکیشن جا ری کیا‘اس نوٹیفکیشن میں فیصل آباد‘لاہور اور پنجاب بھر کے بھٹہ مزدوروں کی کم از کم اجرت مقرر کرتے ہوئے بھٹہ مزدور کی فی ہزار کچی اینٹ تیار کرنے کی اجرت ایک ہزار ایک سو دس روپے مقرر کی گئی‘لیکن اس نوٹیفکیشن پر محکمہ لیبر اور ضلعی انتظامیہ جن میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر بھی شامل ہیں جن کے بیانات اخبارات میں اس یقین دہانی کے موجود ہیں کہ بھٹہ مزدوروں کی کم از کم اجرت کے نوٹیفکیشن پر ہر صورت عمل کرایا جائے گا‘ لیکن احتجاجی مظاہرین کے لیڈروں کے مطابق دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا‘ اس کا جواب تو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور صوبائی وزیر لیبر اینڈ ویلفیئر سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری پنجاب ہی دے سکتے ہیں کہ کون سی قیامت لوٹ پڑی تھی کہ حکومت اپنے ہی جاری کر دہ نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہ کرا سکی‘فیصل آباد ضلع میں ایک خبر کے مطابق کوئی چار سو ساٹھ بھٹہ خشت ہیں اور اس پچا س ہزار کے لگ بھگ محنت کشوں کا روز گا ر وابستہ ہے‘ گویا پچاس ہزار خاندانوں کا معاشی قتل پوری دیدہ دلیری سے ہو رہا ہے اور صورت حال یوں ہے کہ بھٹہ مالکان اور محکمہ لیبر کے افسروں اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے محنت کشوں کو آٹھ سو اور ساڑھے آٹھ سو روپے فی ہزار کچی اینٹ کی تیار کے دئیے جا رہے ہیں جب فرد اس لوٹ مار کر احتجاج کر تا ہے بھٹہ مالکان پولیس کی ملی بھگت سے اسے سبق سکھانے کی غرض سے جھوٹے مقدمات قائم کرا دیتے ہیں اور اس کے خلاف ایسی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی جا تی ہے جو نا قابل ضمانت ہو تی ہیں‘سوال پیدا ہو تا ہے کہ ایسے واقعات رونما ہو نے کے باوجود نہ قانون حرکت میں آ تا ہے اور نہ قانون نافذ کر نے والے ہی نیند سے بیدا ر ہو تے ہیں‘ فیصل آباد میں جو احتجاجی مظاہرہ ہو ا‘بچوں اور مظاہرین نے جو احتجاجی بینرز اپنے ہاتھوں میں اٹھا ئے ہوئے تھے ان ایک بینرز میں بڑے نمایاں انداز میں درج تھا کہ جب تک جنتا تنگ رہے گی جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘جبکہ یہ جنگ تو گزشتہ پچاس برسوں سے جاری ہے اور اب ایسا نقشہ بنتا نظر آ تا ہے کہ مہنگائی تو ساتویں آسمان کو ہوئی نظر آ تی ہے اب جنتا کے صبر کے تمام پیمانے ٹوٹ چکے ہیں اور جنتا اپنی جنگ کی تیار کر رہے ہیں اس جنگ کا فاتح کون ہو تا ہے استحصالی طبقہ یا مجبور و مقصود طبقہ جو اپنے بچوں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتا اس لئے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سردار سیف اللہ ڈوگر نوٹس لیں اور دو برسوں سے جو نوٹیفکیشن کسی الماری میں ایک فائل کی شکل میں گرد آلود فائل ہے اس کی گرد صاف کرائیں اور سپریم کورٹ کے حکم پر جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو رد بعمل کرائیں۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں