بر صغیر کے پہلے شیہد صحافی کی کہانی،حامد میر کی زبانی

تحر یر.. حامد میر……بشکر یہ روزنامہ جنگ
یہ ایک ایسے صحافی کی کہانی ہے جسے گولی مار کر ختم کر دیا گیا لیکن اُس کی کہانی آج تک تمام نہیں ہو سکی۔ اس صحافی کو ماڈرن میڈیا اور ماس کمیونی کیشن کے کئی ماہرین اور اُستاد محض ایک قصہِ ماضی سمجھتے ہیں اور اُس کے اندازِ صحافت کو آئوٹ آف فیشن سمجھتے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ماڈرن میڈیا کے بہت بڑے بڑے نام چند سال کے بعد کسی کو یاد بھی نہ رہیں گے لیکن اس آئوٹ آف فیشن صحافی کا نام آنے والے دور میں بھی زندہ رہے گا کیونکہ یہ صحافی بار بار جنم لیتا رہے گا اور نئے نئے ناموں سے اپنا پرانا کردار دہراتا رہے گا۔ اسے ہر دور میں باغی، سرکش اور وطن دشمن قرار دے کر سچ بولنے سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے گی لیکن یہ باز نہیں آئے گا۔ اسے پہلے بھی اپنے انجام کا پتا تھا اُسے آئندہ بھی اپنے انجام کا پتا ہے۔ اُسے ہمیشہ سے پتا ہے کہ اُسے گولی مار دی جائے گی لیکن وہ اپنی موت میں قوم کی حیات دیکھتا ہے اور بار بار گولی کھانے کے لئے تیار رہے گا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اگر ارباب طاقت اس سرکش صحافی کو غدار اور وطن دشمن سمجھتے تھے تو اس پر کسی عدالت میں مقدمہ کیوں نہ چلایا گیا؟ گولی کیوں مار دی گئی؟ مقدمہ چلانا ایک مشکل کام ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ارباب طاقت اپنی مرضی کی عدالتیں بنا کر وہاں اپنی مرضی کے جج بٹھا دیتے ہیں لیکن ان مرضی کے ججوں کو بھی کچھ نہ کچھ ثبوت اور شہادتوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ارباب طاقت کی مرضی کا فیصلہ صادر کر سکیں کیونکہ یہ فیصلے تاریخ کا حصہ بن کر عدلیہ کے کردار پر ایک داغ کی طرح ثبت ہو جاتے ہیں لہٰذا مقدمہ چلانے کے بجائے سرکشوں کو گولی مارنا یا اُن کی گردن اُڑا دینا ایک آسان راستہ ہے تاکہ کسی جج کے لئے مشکل پیدا نہ ہو کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ ناانصافی کرنے والے کئی ججوں کو بعد میں ڈرائونے خواب آتے ہیں اور یہ جج پوری قوم کے لئے ڈرائونا خواب بن جاتے ہیں۔ ہم جس سرکش صحافی کا ذکر کر رہے ہیں اسے کسی عدالت میں پیش نہ کیا گیا بلکہ اُن کے دفتر سے اُٹھا کر انہیں گولی مار دی گئی۔ تاریخ کا کمال دیکھئے۔ اس صحافی کو آج غدار کی حیثیت سے نہیں بلکہ برصغیر پاک و ہند کا پہلا شہید صحافت قرار دیا جاتا ہے۔ اس شہید صحافت کا نام مولوی محمد باقر جو 1857کے زمانہ غدر میں ’’دہلی اُردو اخبار‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ مولوی محمد باقر نے دہلی کے اس پہلے اُردو اخبار کا اجراء 1837میں کیا تھا۔ ہندوستان میں اُردو کا پہلا اخبار ’’جام جہاں نما‘‘ کے نام سے کلکتہ میں شروع ہوا۔ یہ اخبار ایسٹ انڈیا کمپنی کی گود میں پروان چڑھا لیکن مولوی محمد باقر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے۔ وہ یہ اخبار اپنے بیٹے مولانا محمد حسین آزاد کی مدد سے شائع کرتے جو سیاسی حالات پر شاعرانہ تبصرے کیا کرتے۔ 10مئی 1857ء کو میرٹھ کی فوجی چھائونی میں ہندو اور مسلمان سپاہیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی تو دہلی کے تخت پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر براجمان تھے۔ بہادر شاہ ظفر کا اقتدار صرف اُن کے شاہی محل تک محدود تھا۔ کسی زمانے میں مولوی محمد باقر کو اپنے دوست شاعر شیخ محمد ابراہیم ذوق کی وساطت سے بہادر شاہ ظفر کے دربار تک رسائی حاصل تھی کیونکہ ذوق کا شمار بادشاہ کے اُستادوں میں ہوتا تھا۔ ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالب شاہی دربار سے وابستہ ہو گئے۔ ذوق اور غالب کی معاصرانہ چشمک کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی۔ ایک دفعہ ذوق کی سواری غالب کے محلے سے گزری تو غالب نے پھبتی کسی

بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اِتراتا

کچھ دن بعد ذوق نے غالب کو شاہی مشاعرے میں مدعو کر لیا۔ غالب مشاعرے میں آئے تو ذوق نے بادشاہ کی موجودگی میں فرمائش کی کہ وہ آپ نے مجھ پر ایک فقرہ کسا تھا ذرا اُس کا دوسرا مصرعہ تو پڑھ دیں۔ غالب نے یہ شعر کچھ یوں سنایا؎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں