اور اب رانا ثناء اللہ کی گرفتاری…….سینئر صحافی احمد جمال نظامی کے اہم انکشافات!

تحریر–احمد جمال نظامی

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کی اے این ایف کے ہاتھوں گرفتاری نے حکمران جماعت تحریک انصاف اور اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن دونوں کیلئے کئی سوالات کو جنم دیدیا ہے‘رانا ثناء اللہ خان چونکہ مسلم لیگ ن کے گڑھ سمجھے جانے والے صوبہ پنجاب کے صدر ہے اور پنجاب کو ملک کی سیاست میں کنگ میکر کی حیثیت حاصل ہے لہذا رانا ثناء اللہ خان کی مبینہ طور پر منشیات کیس میں اے این ایف کے ہاتھوں گرفتاری مسلم لیگ ن کیلئے مستقبل قریب میں گلے کی ہڈی بن سکتی ہے جس کیلئے یقینی طور پر مسلم لیگ ن ہر حال میں اس گرفتاری کو اپوزیشن کیساتھ زیادتی اور کریک ڈاؤن کے طور پر پیش کرتے ہوئے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرینگی ویسے بھی ہماری سیاسی تاریخ میں سیاسی گرفتاریوں‘ سمجھوتو ں اور بلیک میلنگ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور رانا ثناء اللہ خان کے تناظر میں مسلم لیگ ن کے پاس سب سے بڑا پتا یہ ہے کہ ماضی میں بھی رانا ثناء اللہ خان کو پرویز مشرف دور میں خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے گرفتار کیا گیا اور پھر ان کے بال‘بھوئیں مونڈ کر برہنہ کرتے ہوئے اچانک چھوڑ دیا گیا‘ اس لئے یہ بات طے ہے کہ مسلم لیگ ن جمہوریت‘اپوزیشن اور سیاست کے کسی بھی زاویے کو ہاتھ سے نہیں جانے دیگی جبکہ دوسری طرف حکمران جماعت تحریک انصاف فی الوقت یہی تاثر دینے اور ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ رانا ثناء اللہ خان کی گرفتاری سے انکا دور دور تک کوئی تعلق نہیں‘ان کی گرفتاری اے این ایف نے اپنی محکمانہ تحقیقات کے بعد کی ہے لیکن حکمران جماعت کے بعض کھلاڑی اپنے اناڑی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید گرفتاریوں کی شنید بھی دے رہے ہیں جس سے سیاسی ماحول نہ صرف گرما رہا ہے بلکہ افراتفری کی کیفیت بھی جنم لے رہی ہے‘رانا ثناء اللہ خان سے ماضی میں کئی سیاسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں مگر مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے ہمیشہ انہیں تنہا نہیں چھوڑا‘اس مرتبہ بھی انہوں نے فوری طور پر رانا ثناء اللہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے‘مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ان دونوں سیاسی جماعتوں کے علاوہ میڈیا پر ایسی خبریں بھی سرگرم ہیں جن کے مطابق کہا جارہا ہے کہ رانا ثناء اللہ خان اسلام آباد کے صحافتی حلقوں کو کئی روز سے بتارہے تھے کہ ان کی گرفتاری عمل میں آسکتی ہے‘اب یہ اجھنبے کی بات ہے کہ رانا ثناء اللہ خان کی پارٹی اجلاس میں شرکت کیلئے جاتے ہوئے موٹر وے پر گرفتاری ہوچکی ہے‘بہرحال اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جہاں ماضی میں اپوزیشن کے سیاستدانوں کو حکومتی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے وہاں بہت سارے سیاست دان سیاست کے داؤ پیج استعمال کرتے ہوئے اپنے کئی نا پسندیدہ اقدامات سے بھی خود کو بری الزمہ قرار دلواتے رہے ہیں تاہم رانا ثناء اللہ خان کی گرفتاری پر اٹھنے والے سوالات کسی نہ کسی حد تک اپوزیشن اور حکمران جماعتوں کی سیاست پر اثر انداز ہونگے‘رانا ثناء اللہ خان 2008ء کے عام انتخابات کے بعد سے پنجاب میں شریف برادران کے نمبر ٹو کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں وہ 2008ء سے2018ء تک مسلسل ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر قانون رہے‘رانا ثناء اللہ خان نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے 1983ء میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا‘اس وقت وہ سکوٹر پر گھومنے والے عام سے وکیل تھے ان کے پاس الیکشن لڑنے کیلئے مالی وسائل بھی دستیاب نہیں تھے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے 1988ء میں انہیں ایم پی اے کا ٹکٹ بھی نہیں دیا جبکہ 1990ء میں پیپلز پارٹی فیصل آباد کے صدر کی حیثیت سے چنیوٹ میں پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئرمین محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ کی موجودگی میں ایک جلسہ عام کے دوران انہوں نے شریف برادران کی خواتین کے بارے میں انتہائی متنازعہ تقریر کی تھی جس پر انہیں پیپلز پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تھا بعد ازاں رانا ثناء اللہ خان نواز شریف کے قریبی عزیز چوہدری شیر علی کے ذریعے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں آگئے‘1993ء میں وہ مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اس کے بعد رانا ثناء اللہ 1997ء 2002ء2008ء اور2013ء میں مسلسل سمن آباد فیصل آباد کے حلقہ سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے‘2018ء کے انتخابات میں وہ اس حلقے سے تو ہار گئے لیکن قومی اسمبلی کے حلقہ این اے106میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچ گئے‘ مشرف دور میں پرویز مشرف آمریت پر تنقید کے باعث شریف برادران کے دل میں جگہ بنانے کے بعد افتخار چوہدری کی عدلیہ بحالی تحریک میں انہوں نے مزید سیاسی ترقی کی‘سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری ان کے فسٹ کزن ہیں جس پر مسلم لیگ ق الزام عائد کرتی رہی کہ رانا ثناء اللہ خان نے انکی رشتہ داری کا خوب فائدہ اٹھایا ہے!!رانا ثناء اللہ خان کا سیاسی کردار ہمیشہ متنازعہ رہا ہے‘سانحہ ماڈل ٹاؤن‘ ختم نبوت کا ایشو اور کبھی تحریک انصاف کی خواتین کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال انہیں متنازعہ سیاستدان کے طور پر سیاسی حلقو ں میں بھی ان رکھتا ہے تاہم مسلم لیگ ن میں بھی ان کے مخالف ایک مضبوط دھڑا موجود ہے جس کی جھلک گزشتہ دور حکومت میں ہونیوالے آخری بلدیاتی انتخابات کے دوران سب نے دیکھی تھی جب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چوہدری شیر علی جو کہ عابد شیر سابق وزیر مملکت کے والد ہیں انہوں نے بھری پریس کانفرنس میں رانا ثناء اللہ پر 21بے گناہ افراد کے قتل کا الزام عائد کردیا تھا جس پر راناثناء اللہ خان نے بعدازاں موقف اختیار کیا تھا کہ چوہدری شیر علی نے یہ بیان بعض ایجنسیوں کے کہنے پر دیا تھا بہرکیف رانا ثناء اللہ ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کے دور میں گرفت میں آچکے ہیں اب اس کا فائدہ اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن اٹھاتی ہے یا تحریک انصاف‘اس کا فیصلہ آنے والا وقت کریگا‘یہ بھی طے ہو جائیگا کہ اس مرتبہ بھی گرفتاری رانا ثناء اللہ کا ماضی کی طرح مزید سیاسی قد کاٹھ بڑھاتی ہے یا ان کا سیاسی زوال شروع ہو جائیگا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں