اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کے فضائل

تحریر۔۔۔۔ احمد جمال نظامی
حضوراقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے آدم کے بیٹے تو ضرورت سے زائد مال کو خرچ کر دے یہ تیرے لئے بہتر ہے‘ اور تو اس کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لئے بُرا ہے اور بقدر کفایت روکنے پر ملامت نہیں‘ اور خرچ کرنے میں جن کی روزی تیرے ذمہ ہے ان سے ابتداء کر (کہ ان پر خرچ کرنا دوسروں سے مقدم ہے)، فضائل صدقات میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ اس حدیث کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ ُ خود ہی فرما چکے ہیں کہ جتنا زائد ہو وہ خرچ کر دو‘ اس جگہ یہ حدیث شریف بھی گذر چکی ہے‘ اہتمام کی اور توضیح کی وجہ سے یہاں دوبارہ ذکر کی گئی‘ حقیقت یہی ہے ہے کہ اپنے سے جو مال زائد ہو وہ جمع کر کے رکھنے کے واسطے ہے ہی نہیں‘ اس کیلئے بہترین بات یہی ہے کہ وہ اللہ کے بینک میں جمع کر دیا جائے جس کو کوئی زوال نہیں‘ اس پر کوئی آفت نہیں آ تی‘ اور ایسے سخت مصیبت کے وقت کام آنے والا ہے جس وقت کے مقابلہ میں یہاں کی ضرورتیں کچھ بھی نہیں ہیں اور وہاں اس وقت کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے‘اثاثہ صرف وہی ہو گا جو اپنے ساتھ لے گیا ہے‘ دوسری چیز اس حدیث شریف میں یہ ہے کہ بقدر کفایت روکنے پر ملامت نہیں‘ یعنی جتنے کی واقعی ضرورت ہو کہ اس کے بغیر گذر مشکل ہو یا دست سوال دراز کرنا پڑے اس کو محفوظ رکھنے پر الزام نہیں ہے اور جن کی روزی اپنے ذمہ ہے اہل و عیال ہوں یا دوسرے لوگ ہوں حتیٰ کہ جانور بھی اگر محبوس کر رکھا ہے تو اس کی خبر گیری اپنے ذمہ ہے اس کو ضائع اور برباد کرنے کا گناہ اور وبال ہوتا ہے‘ حدیث پاک میں حضورؐ کا ارشاد ہے کہ آدمی کے گناہ کے لئے یہی بہت ہے کہ جس کی روزی اس کے ذمہ ہو اس کو ضائع کر دے (مشکوٰۃ) عبداللہ بن صامت ؒ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر ؒ کے ساتھ تھا کہ انکا وظیفہ جو بیت المال میں تھا وہ ان کو ملا‘ وہ اپنی ضروریات خریدنے کیلئے جا رہے تھے‘ ان کی باندی ساتھ تھی جو ان کی ضرورتیں مہیا کر رہی تھی‘اس کے پاس ضروری چیزوں کے بعد سات اشرفیاں بچ گئیں‘ انہوں نے باندی سے فرمایا کہ ان کے پیسے لے آ(تاکہ ان کو تقسیم کر دیں) میں نے کہا کہ اگر ان اشرفیوں کو اپ ابھی رہنے دیں کہ اور ضرورتیں پیش آئیں گی مہمان بھی آتے رہتے ہیں فرمایا کہ مجھ سے میرے دوست (ﷺ) نے یہ قرار داد کی تھی کہ جو سونا یا چاندی باندھ کر رکھا جائے گا وہ مالک پر آگ کی چنگاری ہے جب تک کہ اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کر دیا جائے (ترغیب) حضور اقدس ﷺ کی طرف سے اپنی ضرورت سے زیادہ چیز کو خرچ کر دینے کی اتنی ترغیبات وارد ہوئی ہیں کہ بعض صحابہ کرام کو خیال ہونے لگا کہ آدمی کو اپنی ضرورت سے زیادہ چیز رکھنے کا حق ہی نہیں‘ حضرت ابو سعید خُدری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضورؐ کے ساتھ ایک سفر میں جا رہے تھے کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کو کبھی ادھر کبھی اُدھر لے جاتے تھے‘ اس پر حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے پاس سواری زائد ہو وہ اس کو دیدے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس توشہ زائد ہو وہ اس کو دیدے جس کے پاس توشہ نہیں‘ حتیٰ کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ آدمی کا اپنی ضرورت سے زیادہ میں کوئی حق ہی نہیں‘(ابوداؤد)‘ان صاحب کا اپنی اونٹنی کو ادھر اُدھر پھرانا یا تو اس پر تقاخر اور بڑائی کی وجہ سے تھا تب تو حضورؐ کے آئندہ ارشاد کے مخاطب یہی صاحب ہیں‘اور حاصل یہ ہے کہ ضرورت سے زائد چیز تفاخر کیلئے نہیں ہو تی‘ دوسری کی اعانت کے لئے ہوتی ہے‘ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ پھرانا اس کی ناگفتہ بہ حالت دکھانے کے واسطے صورت سوال تھا‘ اس صورت میں حضورؐ کے ارشاد کے مخاطب دوسرے حضرات ہیں‘ عقبہؓ کہتے ہیں کہ میں نے مد ینہ طیبہ میں حضور اقدسﷺ کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی حضور ؐ نے نماز کا سلام پھیرا اور تھوڑی دیر بعد اٹھ کر نہایت عجلت کیساتھ لوگوں کے مونڈھوں پر کو گذرتے ہوئے ازواج مُطہرات کے گھروں میں سے ایک گھر میں تشریف لے گئے‘ لوگوں میں حضور ؐ کے اس طرح جلدی تشریف لے جانے سے تشویش پیدا ہوئی کہ نہ معلوم کیا بات پیش آگئی‘ حضورؐ کان سے واپس تشریف لائے تو لوگوں کی حیرت کو محسوس فرمایا اس پر حضور ؐ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے سونے کا ایک ٹکڑا یاد آ گیا تھا جو گھر میں رہ گیا تھا‘ مجھے یہ بات گراں گذری (کہ کبھی موت آجائے اور وہ رہ جائے اور میدان حشر میں اسکی جواب دہی اور اس کا حساب) مجھے روک لے اس لئے اس کو جلدی بانٹ دینے کو کہہ کر آیا ہوں‘ اسی قصہ میں دوسری حدیث میں ہے کہ مجھے یہ بات نا پسند ہوئی کہ کہیں میں اس کو بھول جاؤں اور وہ رات کو میرے پاس رہ جائے‘ اس سے بھی بڑھ کر ایک اور قصہ حدیث میں آیا ہے‘ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی بیماری میں حضور ؐ کے پاس چھ سات اشرفیاں تھیں (اسی وقت کہیں سے آ گئی ہوں گی) حضور ؐ نے مجھے حکم فرمایا کہ ان کو جلدی بانٹ دو‘ حضور ؐ کی بیماری کی شدت کی وجہ سے مجھے ان کی تقسیم کرنے کی مہلت نہ ملی‘حضورؐ نے دریافت فرمایا کہ وہ اشرفیاں تقسیم کر دیں‘ میں نے عرض کیا‘ آپ کی بیماری نے بالکل مہلت نہ دی‘ فرمایا اٹھا کر لاؤ‘ ان کو لے کر ہاتھ پر رکھا اور فرمایا کہ اللہ کے نبی کا کیا گمان ہے (یعنی اس کو کس قدر ندامت ہو گی) اگر وہ اس حال میں اللہ جل شانہ ُ سے ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں (مشکوٰۃ) ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ ؓ سے اسی قسم کا ایک اور قصہ نقل کیا گیا جس میں وارد ہے کہ رات ہی کو کہیں سے آگئی تھیں‘ حضور ؐ کی نیند اڑ گئی‘ جب اخیر شب میں میں نے ان کو خرچ کر دیا جب نیند آئی (احیاء) حضرت سہل ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؐ کے پاس سات اشرفیاں تھیں جو حضرت عائشہ ؓ کے پاس رکھی تھیں‘حضورؐ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ وہ علی ؓ کے پاس بھیج دو‘ یہ فرمانے کے بعد حضور ؐ پر غشی طاری ہو گئی جس کی وجہ سے حضرت عائشہ ؓ اس میں مشغول ہو گئیں‘ تھوڑی دیر میں افاقہ ہوا تو پھر یہی فرمایا اور پھر غشی ہو گئی‘بار بار غشی ہو رہی تھی‘ آخر حضورؐ کے بار بار فرمانے پر حضرت عائشہ ؓ نے حضرت علی ؓ کے پاس بھیج دیں‘ انہوں نے تقسیم فرما دیں‘ یہ قصہ تو دن میں گذرا‘ اور شام کو کہ دو شنبہ کی رات حضور ؐ کی زندگی کی آخری رات تھی‘ حضرت عائشہؓ کے گھر میں چراغ میں تیل بھی نہ تھا‘ ایک عورت کے پاس چراغ بھیجا کہ حضور ؐ کی طبیعت زیادہ خراب ہے‘ وصال کا وقت قریب ہے‘ اس میں گھی ڈال دو کہ اسی کو جلا لیں (ترغیب) حضرت اُمّ ِ سَلَمہ ؓ سے اس قسم کا اور قصہ نقل کیا گیا‘ وہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ؐ تشریف لائے اور آپ کے چہرہ مبارک پر تغیر (گرانی) کا اثر تھا‘ میں یہ سمجھی کہ طبیعت نا ساز ہے‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے چہرہ پر کچھ گرانی کا اثر ہے کیا بات ہوئی‘ فرمایا سات دینار رات آ گئے تھے وہ بستر ے کے کونے پر پڑے ہیں ابتک خرچ نہیں ہو ئے (عراقی احیاء) حضور ؐ کی خدمت میں ہدایا تو آتے ہی رہتے تھے لیکن دن ہو‘ رات ہو‘ صحت ہو‘ بیماری ہو‘ اس وقت تک طبیعت مبارک پر بوجھ رہتا تھا جب تک وہ خرچ نہ ہو جائیں اور حد ہے کہ اپنے گھر میں بیماری کی شدت میں رات کو جلانے کو تیل بھی نہیں لیکن سات اشرفیاں موجود ہونے پر بھی گھر کی ضرورت کا نہ حضور اقدس ﷺ کو خیال آیا‘ نہ اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ ہی کو یاد آیا کہ تھوڑا سا تیل بھی منگالیں‘ اللہ کے نیک بندوں اور ولیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رات کو وہ اپنے ملک میں کوئی روپیہ پیسہ رکھنا نہیں چاہا کرتے تھے۔ مولانا محمد زکریا لکھتے ہیں کہ ان کے والد کے قرضہ تو ہمیشہ ہی سر رہا حتیٰ کہ وصال کے وقت بھی سات آٹھ ہزار روپیہ قرض تھا‘ اس لئے اگر رات کو روپیوں کی کوئی مقدار ہو تی تو وہ کسی قرض خواہ کے حوالے کر دیتے اور پیسے ہو تے تو وہ بچوں میں سے کسی کو دے دیتے اور فرمایا کرتے تھے میرا نہیں جی چاہتا کہ یہ گندگی رات کو میرے پاس رہے‘ موت کا اعتبار نہیں ہے‘اس سے بڑھ کر حضرت اقدس قُدوۃُ الزاہدین شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری نور اللہ مُرقدہ کے متعلق سنا ہے کہ حضرت کے پاس فتُو حات کی کثرت تھی اور جب کچھ جمع ہو جاتا‘ تو بہت اہتمام سے اس کو خیر کے مواقع میں تقسیم فرما دیا کرتے‘ اس کے بعد پھر کہیں سے کچھ آجاتا تو چہرہ مبارک پر گرانی کے آثار ہوتے اور ارشاد فرماتے کہ یہ اور آ گیا‘ آخر میں حضرت نے اپنے پہننے کے کپڑے بھی تقسیم فرما دئیے تھے اور اپنے مخصوص خادم حضرت مولانا عبدالقادر صاحب سے فرمایا تھا کہ بس اب تو تم سے کپڑا مُستعار لے کر پہن لیا کروں گا‘ اللہ کے اولیاء کی شانیں اور انداز بھی عجیب ہوا کرتے ہیں یہ بھی ایک ولولہ ہے کہ جیسے آئے تھے ویسے ہی واپس جا ئیں گے‘ اس دنیا کے متاع کا ذخیرہ ملک میں نہ ہو‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں