افتاد

بشکریہ۔۔۔ روز نامہ 92نیوز
تحریر۔۔۔ہارون الرشید
فرمایا: لوگ سوئے پڑے ہیں ، موت آئے گی تب جاگیں گے ۔ سدا آباد ، سدا سرسبز ،امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے ،ایک چھوٹے سے فلیٹ میںایک آدمی اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتا ہے ۔ پرانا سا کوٹ پہنے ، ہر روز وہ اپنے گھر کی سیڑھیاں اترتا اور بس سٹاپ پہ جا کھڑا ہوتاہے ۔ اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا بیگ ہوتاہے ۔ ایک عام سی گھڑی کلائی پر، چہرے پرسستی سی عینک۔سرتاپا عام سا ایک آدمی ۔ چک فینی اس آدمی کا نام ہے ۔ برسوں نہیں ، عشروں تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ دراصل وہ کیا ہے ۔پھر ایک دن یہ انکشاف ہوا کہ وہ آٹھ بلین ڈالر کے عطیات تعلیمی اداروں کو دے چکا ہے ۔ اندرونِ ملک ہی نہیں ، بیرونِ ملک بھی ۔ کوئی چیز نہیں چھپتی ، اس دنیا میں کوئی چیز نہیں چھپتی ۔ سرکارؐ کے فرامین میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی شخص اس دنیا سے اٹھے گا نہیں ، جب تک اس کا باطن آشکار نہ ہو جائے ۔ اخبار میں ایک دن خبر چھپی اور چرچا ہونے لگا۔اخبار نویس نے پوچھاکہ اس بے دردی سے اپنی دولت وہ کیوں لٹاتا ہے ۔ جواب یہ تھا ’’تن برہنہ آدمی پیدا ہوتا ہے اور قبر میں اکیلا جا سوتا ہے ‘‘ عطا بن ابی رباح حرمِ پاک کے یمنی کونے پہ بیٹھے رہتے ، محوِ عبادت یا سوال کرنے والوں کے ہجوم میں گھرے ۔ یہ رسالت مآبﷺ کے فوراً بعد کا عہد تھا ۔ اصحابِ کبارؓ میں سے بیشتر مدینہ میں مقیم تھے مگر چند ایک یہاں بھی ۔ اس لیے کہ آخری تیرہ برس اس جلیل القدر ہستی ؐنے کھجوروں کے شہر میں بسر کیے تھے ، پروردگار نے جن کی عمرِ جلیل کی قسم کھائی۔ جن ؐ پر اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں ۔ ان لوگوں میں سے ایک ، جن کی عالی مرتبتؐ نے بہت توجہ سے تربیت فرمائی تھی ۔ ایک عالی قدر عبد اللہ بن مسعودؓ تھے ۔ آنجنابؐ نے جن کے لیے فہمِ دین کی دعا کی تھی ۔ ایسی فراست اور ایسی بصیرت کہ خارجیوں سے مکالمے کا وقت آیا تو جنابِ علی کرم اللہ وجہ کو اپنی خدمات آپؓ نے پیش کیں ۔ آپؓ کو اندیشہ ہوا کہ پاکستانی طالبان ایسے سرکش یہ لوگ صحابی ء رسولؓ کو گزند نہ پہنچائیں۔ عرض کیا : امیر المومنین ، اندیشہ نہ پالیے ۔ مراد یہ تھی کہ نرمی ، تحمل اور دلیل کے ساتھ وہ ان سے بات کریں گے ۔تلخی بڑھائے بغیر لوٹ آئیں گے ۔ یہ ایک تاریخی مکالمہ تھا ، جس کی تفصیل پھر کبھی ؛باایں ہمہ انہیں عالمِ اسلام کے عظیم ترین فقیہہ کا درجہ حاصل تھا اور اس وقت حاصل تھا، جب جنابِ ابو بکر صدیق ؓ ، سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سمیت اصحابِ کبار ؓ اپنے نورانی وجود کے ساتھ کارفرما تھے۔ عمر ابن خطابؓ وہ تھے کہ قبر میں اتارے گئے تو عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کہا تھا : علم کے دس میں سے نو حصے آج اٹھ گئے ۔ خطاب کا جلیل القدر فرزندؓ ان ؓ سے مشورہ کیا کرتا اور کون ہے جو ان سے مشورہ نہ کرتا ۔ غالباً یہ حج کے ایام تھے کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ مکّہ تشریف لائے ۔پوچھنے والے نے سوال پوچھا تو فرمایا: مجھے حیرت ہے کہ جس شہر میں عطا بن ابی رباحؓ موجود ہوں ، اس میں دوسرے کسی شخص سے سوال کیا جائے ۔ حیرتوں کی حیرت یہ ہے کہ علم کی دہلیز پہ عطا ؓ نے بہت تاخیر سے قدم رکھا ۔ وہ ایک خانہ زاد غلام تھے ۔ ایک بار ارشاد کیا : اپنے وقت کو تین حصوں میں ، میں نے بانٹ رکھا تھا ۔ نیند ، مالکن اوراس کے خاندان کی خدمت اور حصولِ علم و عبادت ۔ پھر وہ وقت آیا کہ مالکن کا جی پگھل گیا ۔ اس نے ادراک کیا کہ اس عالی مرتبت کو،جو کم از کم ایک پہر اصحابؓ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور حصولِ علم میں لگا رہتاہے ، آزاد ہونا چاہئیے ۔ خلق کو فیض پہنچنا چاہئیے ۔ خلق نے فیض پایا اور اتنا کہ لکھا نہیں جا سکتا، بیان کرنا ممکن نہیں ۔ نور کا یہ دریا عشروں تک بہتا رہا ، وصال کے بعد بھی۔ کوئی پھول بن گیا ہے ، کوئی چاند ، کوئی تارا جو چراغ بجھ گئے ہیں تیری انجمن میں جل کے ان لوگوں پہ خدا رحم کرے ، جن کا خیال یہ ہے کہ سرکارؐ اپنے عہد کے تھے۔ جی نہیں ، بالکل نہیں ، بلکہ آنے والی تمام نسلوں کے ۔ عطاؓ اپنے مقام پر تھے،نوافل میں مصروف۔ سلام پھیرا تو سوال کرنے والوں کا ایک مجمع تھا ۔ انہی میں سے ایک نے کچھ استفسارات کیے ۔ کوئی خاص توجہ دیے بغیر جوابات مرحمت فرمائے ۔ یہ ہشام بن عبد الملک تھا، آدھی دنیا کا حکمران ۔ شہزادوں نے اس سے پوچھا : یہ کون آدمی ہے ، جس کی بارگاہ میں آپ حاضر ہوئے اور التفات نہ پایا ۔ کہا: یہ عطا بن ابی رباح ؓ ہے ۔سبھی کو ان کی ضرورت ہے اور انہیں کسی کی ضرورت نہیں ۔ علم حاصل کرو میرے بچّو ۔ علم گمنام کو نامور بناتا ہے اور غلام کو بادشاہ۔ کچھ دیر میں ایک منادی کرنے والا منادی کر رہا تھا : مکہ مکرمہ میں عطا بن ابی رباحؓ کے علاوہ کسی کو فتویٰ دینے کی اجازت نہیں ۔ لیکن پھر ایک دن جناب عطا بن ابی رباحؓ کو ہشام کی ضرورت آپڑی۔ اپنے گدھے پر سوار، دمشق کا انہوں نے قصد کیا ۔ ایک بہت سادہ سی قمیض پہنے، تنِ تنہا ۔ راستے میں ، جو مدینہ منورہ سے ہو کر گزرتاہے ، خراسان کے ایک تاجر اور اس کے فرزند نے انہیں دیکھا ۔ لڑکے نے سیاہ فام بزرگ کے ملبوس کا مذاق اڑانے کی کوشش کی تو باپ کا چہرہ زرد ہو گیا ۔ اس نے کہا : صاحبزادے : یہ عطا بن ابی رباحؓ ہیں ، عطا بن ابی رباح ؓ ۔ سترہ برس تک وہ حرم سے باہر نہ نکلے اور آج جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کوئی افتاد آپڑی ہے ۔ دمشق میں آپؓ کے داخلے کی ہشام کو خبر ملی تو بھاگتا ہوا آیا: کیا ہوا میرے آقا، کیا ہوا؟ ہاتھ پکڑ کر تخت پر اپنے ساتھ جا بٹھایا اور بے تابی سے اپنا سوال دہرایا۔ فرمایا: کیا مکّہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے باشندے رسولِ اکرمؐ کے پڑوسی نہیں ۔ اس نے اثبات میں سرہلایا تو ارشاد کیا : پھر ان پر ٹیکس کی شرح دوسروں کے برابر کیوں ہے ؟ ہشام نے کاتب کو آواز دی اور ٹیکس کی شرح کم کرنے کا حکم دیا ۔ کہا کہ سرحدوں پر جو لوگ اہلِ ایمان کی حفاظت کرتے اور اہلِ کفر سے نبرد آزما ہیں ، کیا وہ اس کے مستحق نہیں کہ رسد ان کے لیے بڑھا دی جائے ۔ ذمیوں سمیت پانچ مختلف طبقات کے بارے میں رعایت کے طلب گار ہوئے ۔ کاتب لکھتا رہا ، سرجھکائے حکمران تائید کرتا اور توثیق کرتا رہا۔ اسی بے تابی سے پھر یہ پوچھا : کچھ اور ؟ کہا :اوریہ کہ آپ تنہا پیدا ہوئے تھے ، تنہا مریں گے اور تنہا اٹھائے جائیں گے ۔ ہشام نے سر جھکا دیا اور رونے لگا ۔ سر اٹھایا تو عطاؓ رخصت ہو چکے تھے ۔ ’’چلے گئے ؟ ، پانی کا ایک گھونٹ پیے بغیر وہ چلے گئے ؟ ‘‘ ۔اس نے کہا ۔ ہاں وہ جا چکے تھے ، محرمِ اسرارِ فطرت ۔ کم لوگ ہیں ، زندگی کا بھید جن پر کھلتاہے ، جو یہ جانتے ہیں کہ زندگی عطا کرنے میں ہے ، سمیٹنے اور جمع کرنے میں نہیں ۔ مثالیں کبھی ہم مشرق سے چنا کرتے ، اپنے دیار سے ،اب مغرب میں ڈھونڈتے ہیں ۔ یہی افتاد ہے ، یہی افتاد ۔ یہ امت روایات میں کھوگئی حقیقت خرافات میں کھو گئی فرمایا: لوگ سوئے پڑے ہیں ، موت آئے گی تب جاگیں گے ۔
بشکریہ۔۔۔ روز نامہ 92نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں