ریلوے کی 9 سے دس ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی کے متعلق بڑے بڑے اہم راز کھل کر سامنے آگئے‘ جان کر آپ بھی حیران وپریشان ہو جائینگے

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘صحافی ڈاٹ کام‘ ویب ڈیسک) وزارت ریلوے نے مزید نئی ٹرینیں چلانے سے ہاتھ کھڑے کر دیئے، پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کو سیکرٹری ریلوے نے آگاہ کیا ہے کہ ریلوے اس وقت نئی ٹرینیں چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، ہمارے پاس کوچز نہیں ہیں، ریلوے کی 9 سے دس ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی کی جائے گی لیکن یہ عمل ابھی شروع نہیں ہوا۔بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکانٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر رانا تنویر حسین کی صدارت میں ہوا اجلاس میں وزارت ریلوے کے سال 1999-2000 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران رکن کمیٹی ریاض فتیانہ نے وزارت ریلوے سے سوالات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کلین گرین مہم شروع کی ہے،جس کے تحت دس ارب درخت لگائے جائیں گے،آئی این پی کے مطابق صرف ریلوے ایک ارب درخت لگا سکتا ہے اس سلسلے میں ریلوے نے کیا پیش رفت دکھائی ہے، ریاض فتیانہ نے کہا کہ ننکانہ صاحب سے کراچی کے ریلوے سیکشن پر ایک بھی فاسٹ ٹرین دستیاب نہیں ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے فورٹ عباس سے لالہ موسی سیکشن کے ریلوے ٹریک منصوبے کا آغاز کیا تھا،اس حوالے سے زمین بھی کی گئی تھی لیکن پھر وہ کام رک گیا،ریاض فتیانہ نے کہا کہ ریلوے نے ابھی حالیہ ریکروٹمنٹ بھی کی ہے اس حوالے سے بھی ہمیں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے، سیکرٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ درخت لگانے کے حوالے سے ریلوے کی منصوبہ بندی ہے، 5 لاکھ کے قریب درخت لگائے گئے ہیں جبکہ اس حوالے سے وزارت موسمیاتی تبدیلی سے بات ہوئی ہے، درخت لگانے کے حوالے سے مزید پیشرفت بھی ہو گی، انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب کے ریلوے اسٹیشن کی بہتری کے لیئے کام کریں گے، اس ٹریک کی پوزیشن نہیں کہ اس پر فاسٹ ٹرین چلائی جا سکے، ریلوے اس وقت نئی ٹرینیں چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، ہمارے پاس کوچز نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ 9 سے دس ہزار آسامیوں پر بھرتی ہو گی لیکن یہ عمل ابھی شروع نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں