تنخواہ دار طبقہ کیلئے ریٹرن فائل کرنے کیلئے انگلش اور اردو زبان کی آسان ایپ تیار کرلی‘جانیے آپ بھی!

اسلام آ باد(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)سینیٹ (ایوان بالا) کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آ گاہ کیا گیا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ کیلئے ریٹرن فائل کرنے کیلئے انگلش اور اردو زبان کی آسان ایپ تیار کرلی جبکہ کاروباری حضرات کیلئے ریٹرن فائل کرنے کیلئے آئندہ سال متعارف کرائی جائے گی، کارٹیج انڈسٹری کی سالانہ تیس لاکھ روپے پیداوار پر ٹیکس عائد ہے،آئندہ بجٹ میں کارٹیج انڈسٹری کے لیے ساٹھ لاکھ کی پیداوار پر ٹیکس کی تجویز کو زیر غور لایا جائے گا، سمال میڈیم انٹرپرائزز کیلئے وزارت صنعت پالیسی تشکیل دے رہی ہے،تاجروں سے معاہدے مطابق جنوری 2020کے بعد غلط شناختی کارڈ فراہم کرنے پر ایف بی آر کارروائی بھی کر سکے گا،چھوٹے دوکانداروں کی رجسٹریشن کیلئے انجم تاجران کو شامل کر رہے ہیں،3ہزار مارکیٹ کمیٹیوں کا نوٹیفیکیشن جلدہو جائے گا، گھی چینی اور چائے کے علاوہ دیگر کھانوں کی چیزوں پر ٹیکس نہیں لیا جا رہا،ستمبر 2018سے ستمبر 2019تک بینکوں کے اثاثو ں میں 17.18فیصداورانکے ذخائر میں 17.7فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا جبکہ کمیٹی نے اسٹیٹ بنک کی جانب سے مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری کے ریٹ کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں جواب طلب کر لیا۔جمعرات کو ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چئیرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا، کمیٹی نے سینیٹر قرء العین مری کے میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو بل 2018 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔آ ئی این پی کے مطابق قائمہ کمیٹی کو کاٹن انڈسٹری اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کی ترقی کیلئے ایف بی آر کی پالیسی اور اٹھائے گئے اقدام بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سمال انڈسٹری کیلئے پلانٹ مشنری میٹریل وغیرہ کی ڈیوٹی فری ایمپورٹ کی جا سکتی ہے ایکسپورٹر کے ساتھ شعور آگاہی مہم بھی شروع کر رہے ہیں جس میں انسینٹیو بارے آگاہ کیا جائے گا۔چھوٹے تاجروں کیلئے علیحدہ سسٹم نہیں ہے کوشش کی جا رہی کہ ایک سہولت لائی جائے چھوٹی کمپنز کیلئے کم ریٹس تھے۔ سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک جامع پالیسی تیار کی جا رہی ہے آئندہ اجلاس میں صرف پالیسی پر بریفنگ حاصل کی جائے۔چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تنخواہ دار طبقہ کیلئے ریٹرن فائل کرنے کیلئے انگلش اور اردو زبان کی آسان ایپ متعارف کرائی ہے،آئندہ سال کاروباری حضرات کیلئے ریٹرن فائل کرنے کیلئے ایپ متعارف کرائی جائے گی،ممبر پالیسی ایف بی آر نے بتایا کہ چھبیس لاکھ ریٹرن فائلرز میں سے تیس ہزار تک ریٹرن مینول طریقے سے فائل ہوئیں، چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ مسئلہ یہ ہے کہ مینول ریٹرن فائل کرنے والوں کا ڈیٹا ایف بی آر کے پاس محفوظ نہیں رہتا، چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ یہ معاملہ ہمارے علم میں ئے جس کو حل کر رہے ہیں، سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ نوٹسز کا جواب دینے کے باوجود سالانہ کی بنیاد پر ایک ہی طرح کے نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں، اگر ایک نوٹس کا ایک بار جواب دیا گیا تو دوبارہ وہ نوٹس کیوں بھیجا جاتا ہے، چئیرمین ایف بی آرشبر زیدی نے کہاکہ سسٹم کو آپ گریڈ کیا جا رہا ہے جو نوٹس ایک بار جائے گا وہ دوبارہ نہیں جائے گا، کارٹیج انڈسٹری کی سالانہ تیس لاکھ روپے پیداوار پر ٹیکس عائد ہے، سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ کارٹیج انڈسٹری ٹیکس بچانے کیلئے آمدنی کم ظاہر کرتی ہے، کارٹیج انڈسٹری کی سالانہ پیداوار پر ٹیکس تیس لاکھ کی بجائے ساتھ لاکھ ہونی چاہیے، چئیرمین ایف بی آر نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں کارٹیج انڈسٹری کیلیے ساٹھ لاکھ کی پیداوار پر ٹیکس کی تجویز کو زیر غور لایا جائے گا،دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں کہ ٹیکس لاء کے تحت مراعات دی جائے، انسینٹو دینے کیلئے دیگر اقدامات کیے جانے چاہیے، فاٹا میں یہاں سے لوگ جا کر انڈسٹری لگا رہے ہیں، اِنکم ٹیکس لاء میں سمال میڈیم انٹرپرائزز کیلئے الگ قانونی حصہ موجود نہیں، ممبر پالیسی ایف بی آر نے بتایا کہ بارہ لاکھ سے زائد آمدن والے انیس ہزار سمال میڈیم انٹرپرائزز ریٹرن فائل کرتے ہیں، چئیرمین ایف بی آر نے کہاکہ سمال میڈیم انٹر پرائزز ریٹرن فائل نہیں کرتے، سمال میڈیم انٹرپرائزز کو پہلے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور اِنکم ٹیکس میں باقاعدہ اِنکم ٹیکس لاء میں حصہ دیا جائے گا، سمال میڈیم انٹرپرائزز انسٹرکچرڈ ہے، سیکرٹری خزانہ نوید کامران نے کہا کہ سمال میڈیم انٹرپرائزز کیلئے وزارت صنعت پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 50ہزار سے زائد خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تاجروں سے بات کی تھی شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں کی گئی اگر خریدار غلط شناختی کارڈ دیتے تو کارروائی نہیں کر سکتے تھے اب معاہدے کے مطابق جنوری 2020کے بعد غلط شناختی کارڈ پر ایف بی آر کارروائی بھی کر سکے گا،30اکتوبر 2019کو معاہدہ کیا گیا ہے۔چھوٹے دوکانداروں کی رجسٹریشن کیلئے انجم تاجران کو شامل کر رہے ہیں 3ہزار مارکیٹ کمیٹیوں کا نوٹیفیکیشن ہو جائے گا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گھی چینی اور چائے کے علاوہ دیگر کھانوں کی چیزوں پر ٹیکس نہیں لیا جا رہا۔ سینیٹر مشاہد اللہ کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ٹیکس وصولی کا ٹارگٹ جو نومبر تک کا تھا اْس کا 90فیصدحاصل کر لیا گیا 1680ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ٹیکس ریفنڈ کے حوالے سے سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 27ارب کا ریفنڈ تھا 16ارب کلیم نہیں کیا گیا اور12ارب میں سے 8ارب روپیہ ادا کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں بیس پرائیویٹ سیکٹرز کے بینک کام کر رہے ہیں اْن کی کارکردگی گزشتہ چند سالوں میں نمایاں بہتر رہی ہے۔ ستمبر 2018سے ستمبر 2019تک ان کے اثاثو ں میں 17.18فیصد اضافہ ہوا انکے ذخائر میں 17.7فیصد اور مارکیٹ شیئر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے چار سے پانچ سالوں میں ان کی کارکردگی میں کافی بہتری رہی ہے۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ اسٹیٹ بنک پاکستان مارکیٹ سے کتنے ڈالر خرید رہا ہے کمیٹی کو آگاہ کریں۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس ایجنڈے کو آئندہ اجلاس تک موخر کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں