ادویات کی قیمتوں میں کیوں اور کتنے فیصد اضافہ ہوا؟ جانیے وفاقی وزیر کے اہم انکشافات !

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ویب ڈیسک‘صحافی ڈاٹ کام )وفاقی وزیرصحت عامر محمود نے کہا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں ڈالر مہنگا ہونے سے 19فیصد اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا سب سے بڑا پروگرام لارہے ہیں، ہم نے 22لاکھ خاندانوں کو کارڈز پہنچا دئیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیات کی ذمہ داری ریاست ہے، آئندہ چھ ماہ میں مزید 90لاکھ خاندانوں میں کارڈز تقسیم کریں گے۔ یہ صحت کے شعبے میں انقلاب ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عامر محمود کیانی نے کہا کہ ڈرگ پالیسی گزشتہ حکومت میں منظورشدہ ہے ہے ۔ ڈالرکی قیمت بڑھنے سے اس میں مہنگائی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ جن کمپنیوں نے ریاست کی عملداری کو چینلج کیا ان کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے۔ 37کمپنیوں کی پیداوار بھی روکی ہے اور انہیں جرمانے بھی کیے ہیں، ان کے خلاف کیسز بھی بنائے اور عدالت میں بھی جائیں گے۔ ان کمپنیوں نے خود ہی فارمولا بناکرادویات کو مہنگا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ادویات میں استعمال ہونے والا میٹریل امپورٹ ہوتا ہے اس لیے ڈالر کی قیمت کا ان پر اثرپڑتا ہے۔وزیرصحت نے کہا کہ اسپتالوں میں ادویات کچھ حد تک کم ہیں لیکن زیادہ تر فراہم کردی ہیں، بجٹ میں عام آدمی کے لیے زیادہ فنڈز رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی انڈسٹری کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تاکہ اس سے مزید لوگوں کوفائدہ ہو۔وزیرصحت نے کہا کہ صحت اورتعلیم حکومت کی ذمہ داری ہیں، ہمیں 18ویں ترمیم سے ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہے، ان دونوں شعبوں میں این ایف سی کے تحت صوبوں کو 85فیصد بجٹ ملتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں