آئی ایم ایف کا6ارب ڈالرپاکستان کو لے ڈوبا!مزید جان کر آپ بھی منہ چھپاتے پھیرو نگے

کراچی (مانیٹرنگ نیوز‘صحافی ڈاٹ کام‘ ویب ڈیسک)پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر آئی ایم ایف کاپاکستان کے لیے6ارب ڈالرکابیل آؤٹ پیکج بھی مارکیٹ میں بہتری نہ لاسکا اورپیرکو شیئرز مارکیٹ میں زبردست مندی رہی،85.41فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی تاہم کاروباری حجم گذشتہ روز کی نسبت208.53فیصدزائد رہا۔ صباح نیوز کے مطابق مندی کی وجہ سے کے ایس ای100انڈیکس8بالائی نفسیاتی حدوں سے گرکر4سال کی کم ترین سطح پر آگیا اورسرمایہ کاروں کو 1کھرب81ارب32کروڑروپے سے زائدکا نقصان اٹھانا پڑا۔حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاؤسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے توانائی،سیمنٹ،بینکنگ،فوڈزاور کیمیکل سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پر خریداری کے باعث کاروبارکا آغاز مثبت رجحان میں ہواٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس 35228پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھا گیاتاہم ملک کے اقتصادی ٹیم میں تبدیلیوں کے بعد نئے وفاقی بجٹ میں سخت اقدامات کے خدشات، آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج میں روپے کی قدر مزید گھٹنے، ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید اضافے کے خدشات اور نئے مالی سال کے بجٹ میں 700سے 750ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد ہونے کی خبروں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس سے مقامی سرمایہ کار گروپ تذبذب کا شکار نظرآئے اور اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100 انڈیکس دوران ٹریڈنگ33779پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر دیکھاگیاتاہم غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پرخریداری کی گئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ریکوری آئی اورکے ایس ای100انڈیکس کی33900کی حد بحال ہوگئی تاہم اتارچڑھاؤ کا سلسلہ سارادن جاری رہا،مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 816.15 پوائنٹس کمی سے33900.38 پوائنٹس پر بندہوا۔کے ایس ای30انڈیکس364.23پوائنٹس کمی سے163022.43پوائنٹس،کے ایم آئی 30 انڈیکس1633.19پوائنٹس کمی سے52767.98پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس652.00پوائنٹس کمی سے25041.07 پوائنٹس پربندہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی معیشت کی صورتحال آئی سی یو میں زیر علاج مریض کی سی ہے، آئی ایم ایف معاہدے کے بعد صورتحال کا بہتر ہونا حکومت کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ماہرین اسٹاک ایکسچینج کے مطابق اقتصادی ٹیم میں حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں سرمایہ کاروں کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ نئے وفاقی بجٹ میں کیپٹل مارکیٹ کو کسی قسم کاکوئی ریلیف نہیں ملے گا، یہی منفی عوامل پیراسٹاک مارکیٹ کی نفسیات پر چھائے رہے اور مارکیٹ تنزلی سے دوچارہوئی۔ جب کہ ماہ رمضان المبارک کی آمد کے باعث بھی سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں نے مارکیٹ سے اپنے سرمائے کے انخلا کو ترجیح دی۔پیرکومجموعی طور پر336کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا،جن میں سے36کمپنیوں کے حصص کے بھاؤمیں اضافہ،287کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ13کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔پیرکومجموعی طور پر 12 کروڑ 12 لاکھ 10 ہزار 860شیئرزکاکاروبارہوا،جوجمعہ کی نسبت 8کروڑ19لاکھ24ہزار770شیئرززائدہیں۔مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 1 کھرب 81 ارب 32 کروڑ 93 لاکھ 85 ہزار888روپے کی کمی سے69کھرب45 ارب3 کروڑ64لاکھ86ہزار969روپے رہ گیا۔قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے سیمنزپاک کے حصص سرفہرست رہے،جس کے حصص کی قیمت9.00روپے اضافے سے647.00 روپے اورپاک ہوٹلزکے حصص کی قیمت5.14روپے اضافے سے141.14روپے پر بند ہوئی۔نمایاں کمی پاک ٹوبیکوکے حصص میں ریکارڈکی گئی،جس کے حصص کی قیمت130.00روپے کمی سے2470.00روپے اورماڑی پیٹرولیم کے حصص کی قیمت49.29روپے کمی سے936.70روپے ہوگئی۔پیرکوکے الیکٹرک کی سرگرمیاں 98لاکھ12ہزارشیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں،جس کے شیئرز کی قیمت38پیسے کمی سے3.98روپے اورمیپل لیف سیمنٹ کی سرگرمیاں 70لاکھ79ہزار500شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی،جس کے شیئرزکی قیمت1.27روپے کمی سے 23.08روپے ہوگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں