پاکستان میں کتنے بچے عارضہ قلب کیساتھ پیدا ہوتے ہیں؟جان کر آپ بھی افسردہ ہو جائینگے

کراچی (مانیٹرنگ نیوز‘صحافی ڈاٹ کام‘ ویب ڈیسک)پاکستان میں 60ہزار بچے عارضہء قلب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جس میں سے 25 فیصد بچوں کو زندہ رہنے کے لیے سرجری درکار ہوتی ہے، دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں ایسا کوئی ادارہء صحت موجود نہیں، جہاں بچوں کے عارضہء قلب کا علاج ہوتا ہو۔آن لائن کے مطابق یہ بات قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کے شعبہء اطفال کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نجمہ پٹیل نے بدھ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے سیمینار روم میں 50ویں عوامی آگاہی پروگرام کے تحت ”پاکستان میں بچوں کے امراضِ قلب کے علاج کی صورتِ حال“ کے موضوع پراپنے خطاب کے دوران کہی۔ لیکچر کا انعقاد ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ اور ورچؤل ایجوکیشنل پروگرام برائے پاکستان کے باہمی تعاون سے ہوا۔ پروفیسر نجمہ پٹیل نے کہا کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان ایسا کوئی ادارہء صحت موجود نہیں جہاں اس عارضے کا علاج ہوتا ہو، انھوں نے کہا بچوں کے علاجِ قلبیات کا شعبہ انتہائی وسیع اور خصوصی ہوتا ہے جس میں جنین سے لیکر بڑی عمر کے بچوں تک کے قلبی امراض کا علاج معالجہ ہوتا ہے، انھوں نے کہا ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے بچوں کے معالج، سرجن اور انتہائی نگہداشت کے لیے افراد درکار ہوتے ہیں، اس مرض کے پھیلاو کے حوالے سے انھوں نے کہا30 ہزار بچوں میں دیگر امراضِ قلب جیسے عضلات قلب میں ورم وغیرہ پیدا ہوجاتے ہیں، انھوں نے کہا پاکستان میں ہر سال 35 ہزار بچے امراضِ قلب کے اسپتال کے شعبہء اطفال میں لائے جاتے ہیں جبکہ دیگر بچوں کی مرض کی تشخیص نہیں ہوپاتی ہو اور وہ مرجاتے ہیں اور ایسا اچھے اسپتالوں میں بھی ہوتا ہے، ان میں سے زیادہ تعداد اْن بچوں کی ہے جن کا تشخیص کے بعد علاج ممکن ہے، انھوں نے کہا2018 ء میں صرف قومی ادارہ برائے امراضِ قلب میں ایک لاکھ بچے دل کے امراض کی شکایت کے ساتھ رجسٹرد ہوئے تھے، انھوں نے کہا اس مرض کے علاج کے لیے ملک میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، دوسری طرف اس عنوان سے آگاہی کا بھی فقدان ہے۔ انھوں نے کہا قومی ادارہ برائے امراضِ قلب اپنی نوعیت کا پاکستان میں سب سے پہلا ادارہ ہے جہاں 1974ء سے امراضِ قلب کے تحت آپریشن کیے جارہے ہیں، انھوں نے کہا بین الاقوامی معیار کے تحت ملک میں 250 بچوں کے ماہرِ قلبیات،150سرجن کی ضرورت ہیں جبکہ اس ضرورت کے برعکس صرف35ماہرِ قلبیات اور16سرجن موجود ہیں، انھوں نے کہا ملک میں ہر سال22ہزار آپریشن کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن صرف4ہزار آپریشن ہی ہوپاتے ہیں۔#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں