پاکستان میں تمباکو کی بیماریوں سے000 160، سے زیادہ افراد موت کاشکار!

اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)وفاقی دارالحکومت میں سیمینارآگاہی دی گئی ہے کہ پاکستان میں تمباکو کی بیماریوں سے000 160، سے زیادہ افراد موت کاشکار ہورہے ہیں۔

سیمینارمیں ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری، پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے بطور مہمانان خصوصی شریک ہوئیں۔شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ تمباکو کا استعمال غیر الجزائی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بیشتر ممالک میں سگریٹ نوشی کا رجحان اور تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کی شرح معاشرے کے کم آمدنی والے حصوں میں سب سے زیادہ ہے۔ تمباکو ٹیکس غریب افراد کے لئے حکومت کے امدادی پیکجوں کے لئے محصول کا مستقل ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ صباح نیوز کے مطابق ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ صحت سے متعلقہ الجزائی امراض کے اخراجات کی وجہ سے سالانہ 100 ملین افراد غربت میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان میں سے زیادہ تر اخراجات غیر ضروری امراض کے علاج معالجے کے لئے ہوتے ہیں۔ عوامی صحت کے لئے اس کے بڑے بھیانک نتائج ہیں۔

2012 میں پاکستان میں تمباکو کے استعمال کیوجہ سے صحت سے متعلقہ غیر مرئی اموات کی وجہ سے صحت کی دیکھ بھال اور پیداواری نقصان سے متعلق لاگت کی وجہ سے حکومت پر 140 بلین روپے کا صحت بوجھ پڑا۔ تمباکو کنٹرول چیمپئنز نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ صحت لیوی بل میں تاخیر کا نوٹس لیں اور خوشحال پاکستان کے لئے شہریوں کی صحت کو ترجیح دیں۔ میزبان ادارے کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں صحت کے حوالے سے تمباکو کے بوجھ زیادہ ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں 19.1 فیصد بالغوں نے کسی بھی شکل میں تمباکو کا استعمال کیا ہے جو 22 ملین سے زیادہ کی آبادی میں بڑی تعداد ہے، اس کے نتیجے میں تمباکو سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے000 160، سے زیادہ افراد چل بستے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق تمباکو پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کی کھپت کو کم کرنے کے لئے سب سے مثر پالیسی ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ پروگرام، ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے مطابق بتایا کہ ہیلتھ لیوی عالمی سطح پر گناہ ٹیکس کے نام سے جانا جاتا ہے) سماجی طور پر نقصان دہ سامان پر ایک ایکسائز ٹیکس ہے۔ ایک ایکسائز ٹیکس فروخت کردہ ہر شے پر عائد فلیٹ ٹیکس ہے۔ سب سے زیادہ ٹیکس والے سامان الکحل، سگریٹ، شوگر ڈرنکس وغیرہ ہیں۔ ایکسائز ٹیکس پروڈیوسر یا تھوک فروش سے وصول کیا جاتا ہے۔ وہ صارفین کے لئے خوردہ قیمت بڑھاتے ہیں۔ سال 2019-2020 کے بجٹ میں کابینہ نے سگریٹ اور شوگر ڈرنکس سے متعلق صحت سے متعلقہ بل کی منظوری دے دی۔ اس بل کے تحت 10 روپے فی سگریٹ پیکٹ اور روپے اور 1 روپے فی 250 ملی لٹر شوگر ڈرنکس کی تجویز کی گئی تھی۔ کابینہ سے منظوری کے باوجود ایف بی آر نے کبھی بھی قومی اسمبلی میں اس بل کو پیش نہیں کیا۔

اس بل کے توسط سے حکومت تقریبا 55 بلین روپے محصولات کی مد میں مزید وصول کر سکتی تھی اس آمدنی کی رقم کو حکومت کے بہبود کے پروگراموں جیسے احساس پروگرام کی معاونت کے لئے بخوبی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تمباکو فری بچوں کے لئے مہم کے نمائندے ملک عمران نے بتایا کہ گذشتہ سال وفاقی کابینہ نے سگریٹ اور شوگر مشروبات پر ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی تھی۔ تاہم پچھلے سال اور موجودہ سال کے فنانس بلوں میں اس کو شامل نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حساب کے مطابق جولائی 2019 سے جون 2020 تک اس مد میں خزانے کو کم از کم 50 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے

۔Sahafe.com.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں