پاک بھارت کشیدگی کا خاتمہ کیوں ضروری ہے ؟ ڈاکٹر فیصل نے بتا دیا

لاہور۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کا خاتمہ خطہ کے امن اور استحکام کے لئے ضروری ہے۔ پاکستان نے کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ، امید ہے بھارت بھی مثبت قدم آگے بڑھائے گا۔ہماری سوچ ہے ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر میں سایہ جائے، کرتارپور راہداری سے دونوں ممالک میں امن بھی ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ اقدام نہ صرف خاص طور بھارتی سکھوں کو سہولت پہنچائے گا بلکہ موجودہ صورتحال میں آگے بڑھنے کے حوالہ سے ایک مثبت قدم ثابت ہو گا اور جھگڑے سے تعاون، کشیدگی سے امن اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد فیصل نے کرتار پور راہداری کھولنے کے حوالہ سے مذاکرات کے لئے بھارت روانہ ہونے سے قبل واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف کرتارپور راہداری کی تعمیر کا افتتاح 28 نومبر 2018 کو کیا گیا تھا جس میں بھارت کے ایک وفاقی وزیرایک صوبائی سمیت بھارتی ارکان پارلیمنٹ اور عام افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرتار پور نارووال میں چھوٹا سا قصبہ ہے جو پاک بھارت سرحد سے چار کلو میٹر دور واقع ہے۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال اس جگہ گزارے ، کرتارپورراہداری سے سکھ برادری کوسہولت اوردونوں ملکوں کے درمیان امن بھی ہوگا، بابا گورونانک دیو جی کا مزارسکھ برادری کیلئے اہمیت کا حامل ہے اورپاکستان اقلیتوں کے حقوق کا ہمیشہ علمبرداررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم جنوری 2019 کو پاکستان نے بھارت کو کرتارپور راہداری کے مجوزہ معاہدہ کا ڈرافٹ بھجوایا اور تجویز دی کہ پاکستانی وفد اس حوالہ سے 14 مارچ کو بھارت کا دورہ کر سکتا ہے اور اس کے بعد بھارتی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ بھارت نے چھ مارچ کو تجویز دی کہ پاکستانی وفد 14 مارچ کو اٹاری کا دورہ کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے اور لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطہ کے امن اور استحکام اور تناؤ میں کمی کے لئے ہم نے بھارتی تجویز سے اتفاق کیا اور اسی وجہ سے آج ہم یہاں ہیں اور بھارت جا رہے ہیں جس سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گا۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ
’’ایک شجر محبت کا ایسا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے ‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے منصوبے کے تحت کرتار پور میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر ہوگی اور دریائے راوی پر پل بنے گا۔ سرحد کے دونوں طرف راہداری مکمل ہونے کے بعد سکھ زائرین کو بارڈر سے گوردوارے تک ویزے کے بغیر سپیشل پرمٹ پر رسائی دی جائے گی۔ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے جس کا 40 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے، یہ منصوبہ رواں سال بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر مکمل کرنے کا ہدف ہے۔سرحد کے دوسری جانب بھارت کا ضلع گورداس پور واقع ہے۔ بھارت نے راہداری کے لیے ڈیرہ بابا نانک نامی علاقے کو زیرو پوائنٹ مقرر کیا ہے۔ بھارت وہاں مسافر ٹرمینل بلڈنگ کمپلیکس اور چیک پوسٹیں قائم کرے گی۔ جس پر 190 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئے گی۔ ٹرمینل پر روزانہ پانچ ہزار سکھ یاتریوں کو کسٹم اور امیگریشن کی سہولیات ملیں گی۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہم کرتار پور راہدای کو کھولنے کے حوالہ سے بات کرنے جا رہے ہیں اور یہی ہمارا محدود مینڈیٹ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں