حضرت وائل ؓ کا ذباب کے لفظ سے بال کٹوا دینا

وائل بن ؓ حجر کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حاضر خدمت ہوا ‘میرے سر کے بال بہت بڑھے ہوئے تھے میں سامنے آیا تو حضور ؐنے ارشاد فرمایا ذُبابُ ذُبابُ‘میں یہ سمجھا کہ میرے بالوں کو ارشاد فرمایا ‘میں واپس گیا اور ان کو کٹوا دیا ‘جب دوسرے دن خدمت میں حاضری ہوئی تو ارشاد فرمایا کہ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا لیکن یہ اچھا کیا ‘( فائدہ) ذُباب کے معنی منحوس کے بھی ہیں اور بری چیز کے بھی ‘یہ اشاروں پر مرمٹنے کی بات ہے کہ منشاء سمجھنے کے بعد خواہ وہ غلط ہی سمجھا ہو اس کی تعمیل میں دیر نہ ہو تی تھی ‘یہاں حضور ؐ نے ارشاد ہی فرما دیا کہ تم کو نہیں کہا تھا مگر یہ چونکہ اپنے متعلق سمجھے اس لئے کیا مجال تھی کہ دیر ہو تی ‘ ابتدائے اسلام میں نماز میں بولنا جائز تھا پھر منسوخ ہو گیا ‘حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ حاضر خدمت ہوئے ‘ حضور ؐ نماز پڑھ رہے تھے ‘ انہوں نے حسب معمول سلام کیا چونکہ نماز میں بولنا منسوخ ہو چکا تھا‘ حضور ؐ نے جواب نہ دیا ‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضور ؐ کے جواب نہ دینے سے نئی اور پرانی با تیں یاد آ کر مختلف خیالات نے مجھے آ گھیرا ‘کبھی سوچتا فلاں بات سے ناراضی ہوئی ‘کبھی خیال کرتا کہ فلاں بات پیش آئی‘ آخر حضور ؐ نے جب سلام پھیرا اور ارشاد فرمایا کہ نماز میں کلام کرنا منسوخ ہو گیا ہے اس لئے میں نے سلام کا جواب نہیں دیا تھا ‘تب جان میں جان آئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں