حضرت ابن عمرؓ سے سوال کہ نماز قصر قرآن میں نہیں

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ قرآن شریف میں مقیم کی نماز کا بھی ذکر ہے اور خوف کی نماز کا بھی ‘مسافر کی نماز کا ذکر نہیں ‘ انہوں نے فرمایا کہ برادر زادہ اﷲ جل شانہ نے حضور اقدس ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا ‘ ہم لوگ انجان تھے کچھ نہیں جانتے تھے ‘بس جو ہم نے ان کو کرتے دیکھا وہ کریں گے ‘( فائدہ ) مقصود یہ ہے کہ ہر مسئلہ کا صراحۃً قرآن شریف میں ہونا ضروری نہیں ‘ عمل کے واسطے حضور اقدس ﷺ سے ثابت ہو جانا کا فی ہے ‘ خود حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے قرآن شریف عطا ہوا اور اس کے برابر اور احکام دئیے گئے ‘ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ پیٹ بھرے لوگ اپنے گدوں پر بیٹھ کر کہیں گے کہ بس قرآن شریف کو مضبوط پکڑ لو جو اس میں احکام ہیں ان پر عمل کرو ‘ (فائدہ ) پیٹ بھرے سے مراد یہ ہے کہ اس قسم کے فاسد خیال دولت کے نشہ سے ہی پیدا ہو تے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں