حضرت حکیم بن حزام ؓ کا سوال نہ کرنے کا عہد

حکیم بن حزام ؓ ایک صحابی ہیں ‘حضور ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے کچھ طلب کیا ‘ حضور ؐ نے عطا فرمایا پھر کسی موقع پر کچھ مانگا ‘ حضور ؐ نے پھر مرحمت فرما دیا ‘ تیسری دفعہ پھر سوال کیا ‘ حضور ؐ نے عطا فر ما دیا اور یہ ارشاد فرمایا کہ حکیم یہ مال سبز باغ ہے ‘ ظاہر میں بڑی میٹھی چیز ہے مگر اس کا دستور یہ ہے کہ اگر یہ دل کے استغناء سے ملے تو اس میں برکت ہو تی ہے اور اگر طمع اور لالچ سے حاصل ہو تو اس میں برکت نہیں ہو تی ایسا ہو جاتا ہے ( جیسے جوع البقر کی بیماری ہو ) کہ ہر وقت کھائے جائے اور پیٹ نہ بھرے‘ حکیمؓ نے عرض کیا یا رسول اﷲ ؐ آپ کے بعد اب کسی کو نہیں ستاؤں گا اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں حکیمؓ کو بیت المال سے کچھ عطا فرمانے کا ارادہ کیا ‘ انہوں نے انکار کر دیا ‘اس کے بعد حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں بار بار اصرار کیا مگر انہوں نے انکار ہی فرما دیا ‘ ( فائدہ ) یہی وجہ ہے کہ آجکل ہم لوگو ں کے مالوں میں برکت نہیں ہو تی کہ لالچ اور طمع میں گھرے رہتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں