ایک اﷲ کے ولی کا واقعہ

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا ‘جب میں اس کو لایا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے ‘ کہنے لگا کہ جو نام آقا رکھیں ‘میں نے پوچھا کہ تم کیا کام کرو گے ‘ کہنے لگا میرے آقا جو آپ حکم دیں گے ‘میں نے پوچھا کہ تم کیا کھانا چاہتے ہو ( تاکہ میں تمہاری خاطر اس کا فکر کروں ) کہنے لگا میرے آقا جو آپ کھلائیں گے ‘ میں نے پوچھا کہ تمہارا بھی کسی چیز کے کھانے کو دل چاہتا ہے ‘ کہنے لگا ‘آقا کے سامنے غلام کی خواہش کیا چیز ہے ‘ جو آقا کی مرضی ہے وہی غلام کی خواہش ہے ‘ اس کا یہ جواب سن کر مجھے رونا آ گیا اور مجھے یہ خیال آیا کہ میرا بھی تو میرے مولیٰ ( جل جلالہ) کے ساتھ یہی معاملہ ہونا چاہیے ‘ میں نے اس سے کہا کہ تم نے تو مجھے اپنے آقا ( تعالیٰ ذکرہ ) کے ساتھ ادب کرنا سکھا دیا ‘ اس نے اس پر دو شعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تیرے کسی بندے کی خدمت مجھ سے پوری پوری ادا ہو جائے تو اس سے بڑھ کر میرے لئے اور کیا نعمت ہو سکتی ہے ‘ پس تو محض اپنے فضل سے میری کوتاہی اور غفلت کو معاف کہ اس لئے کہ میں تجھے بڑا محسن اور بڑا رحیم سمجھتا ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں