پی آئی اے کا خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر!جان کر سب ہکے بکے رہ جائینگے

اسلام آباد – قومی ائیرلائن کو 450 ارب روپے سے زائد خسارے کا سامنا ہے ,پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن نے ملازمت سے غیرحاضر ہونے پر100 سے زائد فضائی میزبانوں کو شوکازنوٹس جاری کردئیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کارروائی سے متعلقہ میزبان بغیر اطلاع کے ملازمت سے غیر حاضر رہے جس پر ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ غیرحاضر رہنے والے میزبانوں کا تعلق کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے ہے۔جن میزبانوں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ان میں 65 کا تعلق لاہور، 62 کا اسلام آباد، 54 کا کراچی اور 15 کا تعلق پشاوراسٹیشن سے ہے۔پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے غیر حاضر رہنے والے میزبانوں کو شوکاز نوٹسز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پروازوں سے بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پی آئی اے انتظامیہ مختلف شکایات اور معاملات کے باعث ڈیڑھ سو سے زائد فضائی میزبانوں کو پہلے ہی بین الاقوامی پروازوں سے الگ کرچکی ہے۔اس سے قبل پی آئی اے نے جعلی ڈگریوں پر 53 ملازمین کی نوکریاں بھی ختم کردی تھیں جس میں تین پائلٹس اور 50 کیبن کریوشامل تھے۔گزشتہ سال قومی ائیرلائن کی دس سالہ کارکردگی رپورٹ جاری ہوئی تھی جس کے مطابق 2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت آنے پر پی آئی اے کے پاس طیاروں کی تعداد 33 تھی جو کہ 2018 میں صرف 12 ہوگئی تھی۔رپورٹ کے متن کے مطابق ن لیگ نے پانچ سال میں صرف تین طیارے ویٹ لیز پر لیے اور فی طیارہ ملازمین کی تعداد میں سابقہ حکومت کے دور میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، 2014 میں پی آئی اے فی طیارہ ملازم کی تعداد 565 رہی۔قومی ائیرلائن کو 450 ارب روپے سے زائد خسارے کا سامنا ہے اور موجودہ حکومت کی جانب سے ادارے کو خسارے سے نکالنے اوربحالی کے لیے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں