طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی،کتنے افراد جاں بحق ہوگئے ‘جانیے

کوئٹہ-بلوچستان میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی، بچی سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے ،ریلوے ٹریک بہہ جانے سے پاک ایران ریلوے سروس بھی معطلہو گئی جبکہ زیارت میں برف باری کا 15 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا قلعہ عبداللہ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اورفوج کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے ندی نالے بپھر گئے اور سیلابی ریلوں سے متعدد مکانات گر گئے مختلف مقامات پر رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں کچے مکانات، دیواریں گرنے اور دیگر حادثات میں ایک بچی سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے ریلوے ٹریک بہہ جانے سے پاک ایران ریلوے سروس معطل ہوگئی زیارت میں برف باری کا 15 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ادھربرف باری اور بارش کے باعث ضلع قلعہ عبداللہ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی سیلابی ریلوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے ایف سی اور لیویز ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں پاک فوج کو بھی طلب کرلیا گیا ہے شمال مشرقی بلوچستان میں برف باری اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، وادی زیارت میں برف باری کا 15 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے اور وادی میں گزشتہ روز سے اب تک 3 فٹ برف پڑ چکی ہے،کوڑک ٹاپ پر شدید برفباری کے باعث آمدورفت معطل ہے کان مہترزئی اور خانوزئی میں لوگ گھروں میں محصور ہو گئے ہیں جبکہ اسلام آباد اور لاہور سے آنے والی مسافر بسیں کان مہترزئی کے مقام پر گزشتہ رات سے پھنسی ہوئی ہیں،مستونگ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ بند ہوگئی ہے جبکہ قلات میں بھی بارش اور برفباری کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔قلعہ عبداللہ کے قریب قومی شاہراہ پر پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا، چمن، پشین، ہرنائی، لورالائی، موسیٰ خیل شیرانی، قلعہ سیف اللہ میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر گئے ہیں۔خاران میں بھی طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں،چاغی میں 600 فٹ سے زائد ریلوے ٹریک بہہ جانے سے پاک ایران ریلوے سروس معطل ہوگئی ہے اس کے علاوہ خضدار، لسبیلہ اور اوتھل میں طوفانی بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں نے حب ڈیم کا رخ کرلیا ہے اور حب ڈیم میں پانی کی سطح میں مزید 10 سے 20 فٹ اضافے کا امکان ہے، نصیرآباد میں بارشوں کے بعد دریائے ناڑی بینک میں گیارہ ہزار کیوسک کا سیلابی ریلی گزر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں