سانحہ ساہیوال اس وقت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ‘حکومتی عدم توجہی اسے غیر جانبدار ووٹرز کی حمایت سے محروم کردیگی

سانحہ ساہیوال اس وقت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے ‘فیس بک ‘ٹوئٹر ‘گوگل پلس ‘انسٹا گرام وغیرہ پر گزشتہ دو روز سے سانحہ ساہیوال کی تصاویر اور مختلف کمینٹس پوسٹ کئے جارہے ہیں اور تحریک انصاف کے حمایتی افراد اور ان کے علاوہ تحریک انصاف ‘مسلم لیگ ن ‘پیپلز پارٹی ‘دیگر سیاسی و سماجی اور مذہبی گروپس میں بھی سانحہ ساہیوال پر سب سے زیادہ بات کی جارہی ہے اور ان ساری پوسٹوں اور میسجز کا محور ساہیوال میں ہونیوالا ظلم ہے سوشل میڈیا پر عوام کی غالب اکثریت نئے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے پرزور مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس واقعہ کو اپنا پہلا سوموٹو ایکشن بنائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے سوشل میڈیا پر عوام کی متفقہ رائے سامنے آرہی ہے کہ ماضی کی طرح اس کیس کا بھی کچھ نہیں بنے گا اور جیسے ہی میڈیا پر اس کیس کی کوریج کم ہوگی متعلقہ ادارے اور حکومت بھی چپ سادھ لے گی کیونکہ ماضی میں ہمیشہ ایسے ہی ہوا ہے سانحہ ساہیوال کے بعد عوام سوشل میڈیا پر بالخصوص سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد حکومت اور وزیر اعظم کو دلوا رہی ہے کہ وہ اپنی ماضی کی تنقید اور احتجاج کو یاد کرے اور وزیر اعظم فوری طور پر پنجاب کے دورے پر آئیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی شروع کروائی جائے ‘سوشل میڈیا پر اس بات پر بھی شدید تنقید کی جارہی ہے کہ پنجاب کے وزراء راجہ بشارت ‘محمود الرشید ‘فیاض چوہا ن وغیرہ نے پریس کانفرنس کرکے سی ٹی ڈی کے موقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی اور گورنر پنجاب چوہدری سرور نے یہاں تک کہہ دیا کہ اسطرح کے واقعات پوری دنیا میں رونما ہوتے ہیں لہذا اب دیکھنا ہوگا کہ کیا آئندہ جے آئی ٹی رپورٹ جو سامنے آئے گی وہ بھی پنجاب کے وزراء کی طرح یکطرفہ طور پر سی ٹی ڈی کی حمایت میں ہوگی اور کیا اس کے بعد عوامی احتجاج پر پھر سب کو گمراہ کرنے کیلئے جیسا کہ راجہ بشارت نے کہا ہے کہ ایک جوڈیشل کمیشن انکوائری کیلئے قائم کردیا جائیگا سوشل میڈیا پر سوال کیا جارہا ہے کہ کیا مختلف اور واضح ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں کی حمایت کرنا درست ہے تا ہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سانحہ ساہیوال تحریک انصاف کی تبدیلی کے دعوؤں کیلئے ایک بڑا امتحان ہے اگر تحریک انصاف نے ماضی کی حکومتوں کی طرح کوئی روش اپنائی تو وہ اپنے غیر جانبدار ووٹرز کی ایک بھاری تعداد سے محروم ہوجائیگی جو پڑھے لکھے اور نوجوان طبقے پر مشتمل ہے اور جس کا پہلے ہی یہ خیال ہے کہ ہمارے ملک میں کبھی انصاف نہیں ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں