بغل میں چھری منہ میں رام رام ‘بی بی سی کے چپ کے موسم کی حقیقت کیا ہے !!!…………………

بین الاقوامی سطح پر صحافتی اداروں کا نام آئے تو بی بی سی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ‘بی بی سی برطانوی نشریاتی ادارہ ہے اور برطانیہ کی حکومت بی بی سی کو پرموٹ کرنے میں بھاری بھرکم فنڈز کا استعمال بھی کرتی ہے ‘بی بی سی پوری دنیا میں اپنے نمائندوں کا وسیع نیٹ ورک رکھتا ہے خاص طور پر جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بی بی سی کوریج کے ذریعے اپنا صحافتی قد کاٹ بڑھاتا ہے بی بی سی کے نمائندوں کا متعددمرتبہ مختلف ممالک میں داخلوں پر بھی پابندی عائد ہوچکی ہے اور کئی مرتبہ بی بی سی کیخلاف مختلف ممالک کی حکومتوں کی طرف سے تردید کی صورت میں تنقید بھی سامنے آچکی ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ دنیا بھر میں آزادی صحافت کے نام پر سب سے زیادہ کسی صحافتی ادارے نے فائدہ اٹھایا ہے تو وہ بی بی سی ہے بی بی سی نے کئی ممالک میں کئی زبانوں کے ساتھ اپنی ویب نشریات اور پبلیشنگ کا آغاز بھی کررکھا ہے پاکستان میں بی بی سی نے بی بی سی اردو سروس شروع کررکھی ہے بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ کی پیشانی پر گزشتہ کئی ماہ سے چپ کا موسم کے عنوان سے پیشانی کا لوگولگا رکھا ہے اور ایک ہیش بھی اس پر درج ہے جس پر انگریزی میں لکھا ہے کہ جرنلزم از ناٹ آ کرائم ‘ بی بی سی اس حوالے سے کئی خبریں ‘فیچر اور مضامین شائع کرنے کے علاوہ کئی ویڈیو پیکجز بھی نشر کرچکا ہے بی بی سی کا اس ساری مہم کے پیچھے بلواسطہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے 2018کے عام انتخابات سے پہلے مسلم لیگ ن اور اس کے حمایت یافتہ ایک دو میڈیا گروپس کو تشویش تھی کہ آزادی صحافت پر قدغن لگائی جاسکتی ہے لیکن بی بی سی جو کہ ایک انٹرنیشنل اور برطانوی نشریاتی کمپنی ہے اسکو پاکستان کے داخلی معاملات میں اس حد تک مداخلت کا شوق کیوں ہے یہ سوال اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مسلم لیگ ن نے میڈیا پر بھرپور سرمایہ کاری کر رکھی تھی ن لیگ کے دور میں ملکی حتی کہ بین الاقوامی میڈیا کی بھی اس کے بارے میں کئی کارکردگی رپورٹس وقت کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوچکے ہیں ن لیگ کی میڈیا پر سرمایہ کاری کی صورت میں رپورٹرز ‘سب ایڈیٹرز ‘نیوز ایڈیٹرزاور دیگر عملی صحافی یہ گلہ کرتے تھے کہ سرمایہ کاری کی صورت میں مالکان کے ذریعے ان سے آزادی صحافت کا حق چھینا جاتا ہے اس وقت بی بی سی نے خود چپ کا موسم کیوں جاری رکھا اس پر ہر طرف سے سوال اٹھ رہے ہیں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ چپ کا موسم نہیں ہوتا جب بی بی سی کے رپورٹر اور ایڈیٹرز اور نمائندے اپنی ایڈیٹوریل پالیسی کے باعث کشمیر فلسطین اور دیگر ایسے تمام مقامات پر جہاں مسلمانوں پر مظالم ہورہے ہوتے ہیں ‘مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہوتا ہے تو بی بی سی خاموش رہتا ہے اور اس کا چپ کا موسم جاری رہتا ہے اس پر بھی سوال کیا جاتا ہے کہ جرنلزم از ناٹ آ کرائم ‘لیکن بی بی سی کی روش پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام !!!بی بی سی کے چپ کا موسم ہر دور میں ہر خبر اور واقعہ پر جاری رہتا ہے لیکن تب کیوں کہ اپنے مخصوص ایجنڈے کا خیال ہوتا ہے اس لئے ایسے ڈرامے نہیں کئے جاتے ‘صحافت کے نام پر ایسے ڈرامے بی بی سی کو زیب نہیں دیتے لیکن بی بی سی دراصل خود برطانیہ کا ایک ڈرامہ نشریاتی ادارہ ہے جو ہمیشہ مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے خلاف کردار ادا کرتا ہے اس وقت بھی چپ کے موسم کے نام پر یہ کام جاری ہے اسی لئے کہتے ہیں بغل میں چھری اور منہ میں رام رام !!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں