قومی حکومت کا مطالبہ۔۔۔ بے چینی سمجھ آتی ہے!

احمد جمال نظامی نوائے وقت میں لکھتے ہیں کہ :۔
سیاست دان اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں! ان کے کئی بیانات ایسے ہوتے ہیں کہ جن پر انسان بے ساختہ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ اہل سیاست کی صفوں میں مفادات کے لئے سرگرداں رہنے کی روش ہے۔ 2013ء بلکہ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد سے رانا ثناء اللہ خاں مسلم لیگ(ن) میں جتنے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے، وہ بہار انہیں دوبارہ میسر نہیں آ رہی اور دوسری طرف زندگی کے اس حصے میں ان سے اپوزیشن کا مضبوط اور موثر کردار بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔ لہٰذا ان کے دل کی بات گزشتہ روز ان کے ایک بیان کی صورت میں سامنے آ ہی گئی جس میں موصوف نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم فوری طور پر موجودہ حکومت کو ختم کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت کا قیام عمل میں لائیں کیونکہ حکومت معاملات ریاست اور نظام حکومت چلانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے اقتدار کے حوالے سے عوام کو جس قدر سہانے خواب دکھائے اس بناء پر یہ بات بڑی حد تک درست قرار دی جا سکتی ہے کہ حکومت اپنے وعدوں اور دعوؤں کے مطابق کامیابی حاصل کرنے میں ناکام ہے جبکہ اس کے برعکس اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف چپ کا روزہ توڑنے کے لئے تیار نہیں اور اب تو وہ صحافیوں کے سوالوں پر یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ ہنسنا تو دور کی بات ہمیں کھل کر رونے بھی نہیں دیا گیا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہبازشریف نیب کی حراست کے بعد جیل یاترا پر ہیں وہ گاہے بگاہے پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی پہنچتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو بھی لندن نہیں جانے دیا گیا اور وجہ یہ بیان کی گئی کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے۔ نیب کی طرف سے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو بھی طلب کیا گیا۔ اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی نیب نے ایک شکایت پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ روز نیب نے وزیراعلیٰ کے پی کے اور ان کے خاص سیاسی رفیق کو بھی مالم جبہ کیس میں طلب کر لیا۔ گویا یہ بات تو طے ہے کہ عمران خان ہر حال میں احتساب چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح لوٹی گئی رقم کو واپس قومی خزانے میں جمع کروایا جا سکے۔ البتہ وزیراعظم کی طرف سے بار بار یہ بات کہنا کہ نیب ان کے دائرہ اختیار میں نہیں، مخصمہ خیز ہے کیونکہ وزیراعظم تو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ سٹیٹ بینک کی طرف سے ڈالر کی قیمت بڑھانے سے پہلے انہیں کوئی علم نہیں تھا اور یہ بات شاید درست نہیں ہے۔ اسی طرح نیب کے حوالے سے وزیراعظم کی گفت و شنید عین حقیقت کے قریب محسوس نہیں کی جا رہی اور اپوزیشن بھی اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ یکطرفہ احتجاج کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ دراصل اپوزیشن کی دو جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے گزشتہ کئی عشروں سے اقتدار میں رہتے ہوئے ایسا بہت کچھ کر رکھا ہے جس کی وہ ہر حال میں پردہ داری چاہتے ہیں لیکن تحریک انصاف کی صورت میں عمران خان کی قیادت میں ایک ایسی حکومت معرض وجود میں آ چکی ہے جو اپوزیشن کے لئے لازمی طور پر ایک عجوبہ حکومت ہے۔ یہ حکومت ان کو اور روایتی سیاست دانوں کو عجوبہ نظر بھی آنی بھی چاہیے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کا طرزاقتدار اور تمام تر پالیسیز روایت سے ہٹ کے ہیں۔ ان پالیسیز اور طرزعمل پر سو فیصد وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یا تو حکومت ملک کی تاریخ کو ایسے انداز میں تبدیل کر دے گی کہ ملک کی ترقی ایک ریکارڈ پر کھڑی ہو گی یا پھر حکومت معاملات مملکت کو اس قدر بگاڑ کا شکار کر دے گی کہ خود حکومت کو سمجھ نہیں آئے گی کہ وہ اصلاح و احوال کے لئے کیا کرے۔ لیکن اس سب کے درمیان احتساب کا وہ عمل ہے جو اپوزیشن کی جماعتوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا۔ لہٰذا ایسے حالات میں صوبہ پنجاب کے دس سال تک وزیر قانون رہنے والے سیاست دان رانا ثناء اللہ خاں کی طرف سے قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ سمجھ میں آتا ہے۔ رانا ثناء اللہ خاں اب نہ تین میں ہیں اور نہ تیرا میں۔ ایک وقت تھا جب ان کا پنجاب اور بالخصوص فیصل آباد میں ڈنکا بجتا تھا لیکن آج کسی کو ان کی آمد اور رخصت کا علم بھی نہیں ہوتا۔ ان پر بھی کئی طرح کے الزامات ہیں۔ خود مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما اور نوازشریف کے قریبی عزیز چوہدری شیرعلی ان پر سنگین الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ شاید ان کو ڈر ہو کہ آئندہ باری ان کی ہو گی۔ویسے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن پر حکومت پنجاب کی طرف سے قائم کردہ جے آئی ٹی انہیں بے چین کرنے کے لئے کافی ہے۔ موجودہ حکمران ملک کی بہتری کے لئے اپنے کئے گئے وعدوں کو ذہن میں رکھیں اور اس بات کو فراموش نہ کریں کہ آج جن کے خلاف وہ احتساب کی باتیں کر رہے ہیں اگر انہوں نے غلطیاں اور کوتاہیاں کیں تو آئندہ یہی احتساب ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے لہٰذا صاف، شفاف اور بلاخوف و خطر احتساب کے لئے اپنا دامن صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں